
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ اگر ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کسی تصفیے پر آمادہ ہوتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔ ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو واضح پیغام دے چکے ہیں کہ واشنگٹن سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، اور طاقت کے ذریعے امن کا تصور امریکی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ دنیا نے حالیہ عرصے میں امریکا کی عسکری صلاحیتیں دیکھ لی ہیں، اور یہی صلاحیتیں کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے مؤثر باز deterrence فراہم کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئے اور کشیدگی کم کرے۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے لہجہ خاصا سخت دکھائی دے رہا ہے۔ ایران کے سینئر رہنما اور رہبرِ اعلیٰ کے سابق مشیر محمد جواد لاریجانی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی تو اسے اپنے فوجیوں کے لیے ’’بہت سے تابوت تیار کرنا ہوں گے‘‘۔ ان کے مطابق ایران کسی بھی حملے کی صورت میں محدود یا متناسب ردعمل پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ امریکی مفادات کو پورے خطے میں نشانہ بنایا جائے گا۔

لاریجانی نے کہا کہ ایران نے ماضی کے تنازعات سے کافی تجربہ حاصل کیا ہے اور آئندہ کسی بھی تصادم میں دشمن کے لیے ’’غیر متوقع حیرتیں‘‘ موجود ہوں گی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امریکا کی جانب سے فوری حملے اور بعد ازاں سیاسی دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی اب کارگر نہیں رہے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک طرف امریکا سفارتی حل پر زور دے رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران سخت بیانات کے ذریعے دباؤ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں کشیدگی کے ساتھ ساتھ مذاکرات کے امکانات بھی بیک وقت موجود ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا دونوں فریق کشیدگی کم کرنے کی سمت بڑھتے ہیں یا بیانات کی یہ جنگ عملی تصادم کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔



