عالمی خبریںمشرق وسطی

سعودی عرب اسرائیل میں سخت لڑائی

(تازہ حالات رپورٹ)غزہ اسرائیل دو سالہ جنگ کے بعد مشرق وسطی کا منظرنامہ بدلتا جارہا ہے- اسرائیل عرب ملکوں کے ساتھ دوستی اور ابراہیمی معاہدے کی امید لگائے بیٹھا تھا لیکن غزہ جنگ نے سب کچھ برباد کردیا- عالم اسلام کا سب سے بڑا طاقتور ملک سعودی عرب ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوسکتا تھا ، کیوں کہ امریکی صدر ٹرمپ کے بے حد اصرار تھا لیکن سعودی عرب کی متشدد حکومت کی وجہ سے اب اتنی دوریاں بڑھ گئی ہیں کہ دونوں ممالک کئی محاذوں پر آمنے سامنے آچکے ہیں-

اسرائیلی سینئر صحافی باراک ریود کے مطابق سعودی حکومت کے ترجمانوں اور سرکاری میڈیا میں حالیہ ہفتوں میں اسرائیل مخالف پیغامات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

سعودی عرب نے اپنے معتدل رویے سے ہٹ کر اب زیادہ اسلام پسند پالیسی اپنائی ہے، جیسے قطر اور ترکی کے ساتھ قریب ہونا۔ایک مشہور سعودی کالم نگار ڈاکٹر احمد بن عثمان التويجري نے متحدہ عرب امارات کو “عرب دنیا میں اسرائیلی ٹروجن ہارس” کہا اور اسرائیل کو تیزی سے تباہی کی طرف بتایا۔سرکاری اخبار الریاض کے ایڈیٹوریل میں کہا گیا کہ “جہاں اسرائیل ہے وہاں تباہی اور بربادی ہے”، اور اسرائیل دوسرے ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتا ہے۔سعودی سوشل میڈیا پر سازشی تھیوری پھیلائی جا رہی ہے کہ متحدہ عرب امارات “نیا ابراہیمی مذہب” بنانا چاہتا ہے جو اسلام کو تباہ کر دے گا۔

مکہ کی مسجد الحرام کے امام شیخ صالح بن عبداللہ بن حمید نے خطبے میں دعا کی: “اے اللہ! یہود سے نمٹ جو قبضہ کر چکے ہیں، ان پر اپنا عذاب نازل فرما۔”

سعودی حمایت یافتہ چینل العربیہ کو بہت اسرائیل مخالف اور فلسطینیوں کی حمایت کرنے والا بتایا گیا ہے۔

اسرائیلی صحافی کے مطابق اس تبدیلی کی کئی وجوہات: ہیں۔ جیسے اسرئیل کا افریقا کے مسلمان ملک صومالیہ کی ریاست صومالی لینڈ کو علحیدہ ریاست تسلیم کرنا جس سے سعودی مفادات کو شدید خطرات لاحق ہوگئے – اسی طرح ایران میں حکومت گرا کر ایسی حکومت لانا جو اسرائیل سے ممکنہ تعلقات قائم کرلے۔باراک روید کے مطابق سعودی عرب اب اسلام پسند طاقتوں (قطر، ترکی) کے ساتھ مل کر اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی مخالفت کر رہا ہے تاکہ علاقائی طاقت حاصل کرے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑی تبدیلی ہے اور امریکہ کو سعودی عرب سے بات چیت کرنی چاہیے تاکہ سعودی عرب اسرائیل کے خلاف نہ جاسکے-

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button