ایرانپاکستان

ایران چین–یورپ راہداری میں اسٹریٹجک مرکز کے طور پر خود کو پیش کر رہا ہے

(تازہ حالات رپورٹ )

ایران ریلوے کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ اب تک چین سے روانہ ہونے والی 60 مال بردار ٹرینیں ایران کے راستے یورپ اور دیگر منڈیوں کی جانب سفر کر چکی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران تیزی سے چین–یورپ زمینی تجارتی راہداری میں ایک اہم اسٹریٹجک کردار اختیار کر رہا ہے۔

ایران کی سرکاری ریلوے کمپنی (RAI) کے سربراہ جبار علی ذاکری کے مطابق چین اور ایران کے درمیان مال بردار ٹرینوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران اور چین کے درمیان نقل و حمل کے اخراجات کم کیے جائیں تو ایرانی برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

جغرافیائی محلِ وقوع ایران کا بڑا اثاثہ

ماہرین کے مطابق عالمی سپلائی چینز میں تبدیلی کے اس دور میں ایران کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے مشرق اور مغرب کے درمیان ایک قدرتی پل بناتا ہے۔ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے تحت جنوبی راہداری، جو وسطی ایشیا سے گزرتی ہے، شمالی راستوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور مستحکم سمجھی جا رہی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق اس راہداری کو فعال بنانے سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ انفراسٹرکچر کی ترقی اور علاقائی اثر و رسوخ میں بھی اضافہ ہوگا۔

چین کے ساتھ اعلیٰ سطحی ہم آہنگی

گزشتہ برس چین اسٹیٹ ریلوے گروپ کے حکام نے ایران کو بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں ایک اہم شراکت دار قرار دیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان کنٹینر ٹرینوں کی تعداد بڑھانے، کسٹمز کے عمل کو آسان بنانے اور قیمتوں میں استحکام پر اتفاق کیا گیا ہے۔

جبار علی ذاکری نے حال ہی میں بیجنگ میں انٹرنیشنل یونین آف ریلوے (UIC) کے اجلاس کے موقع پر چین ریلوے کے جنرل منیجر سے ملاقات کی، جہاں دونوں فریقین نے 2024 میں بحال ہونے والی چین–ایران کنٹینر سروس کو مستقبل کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔

ریلوے انفراسٹرکچر میں بڑی سرمایہ کاری

ایران مشرق سے مغرب تک ریلوے نیٹ ورک کو جدید بنانے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق سرخس (ترکمانستان سرحد) سے رازی (ترکی سرحد) تک ریلوے لائن کو ڈبل ٹریک اور برقی بنایا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 1,000 کلومیٹر ریلوے لائن کی برقی کاری کے لیے ایک چینی کمپنی کے ساتھ معاہدہ ہو چکا ہے۔

اس منصوبے سے ایران کی ریلوے مال برداری کی صلاحیت 5 ملین ٹن سے بڑھ کر 15 ملین ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے، جو یورپی منڈیوں کے لیے ایران کو ایک مضبوط زمینی متبادل بنا سکتی ہے۔

اپرین ڈرائی پورٹ: لاجسٹک مرکز کی طرف قدم

ایران کے دارالحکومت تہران کے قریب اپرین ڈرائی پورٹ کو بھی ایک اہم لاجسٹک مرکز کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، جہاں کئی غیر ملکی کمپنیاں سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔ 2024 میں چین–ایران مال بردار ٹرین کا دوبارہ آغاز بھی اسی بندرگاہ سے کیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر چین ریلوے اس منصوبے میں براہِ راست سرمایہ کاری کرتی ہے تو ایران محض ٹرانزٹ ملک نہیں رہے گا بلکہ ویلیو ایڈڈ لاجسٹکس ہب میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

رفتار، سکیورٹی اور کم لاگت

ایران ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ چین–ایران–یورپ ریلوے راہداری سمندری راستوں کے مقابلے میں کم وقت، زیادہ سکیورٹی اور کم مجموعی لاگت فراہم کرتی ہے۔ جہاں سمندری راستے سے چین سے یورپ پہنچنے میں 35 سے 45 دن لگتے ہیں، وہیں ریلوے کے ذریعے یہ سفر تقریباً 15 سے 20 دن میں مکمل ہو سکتا ہے۔

چینی سفارتکاروں کے مطابق یہ منصوبہ محض تجارتی نہیں بلکہ اقتصادی، صنعتی اور ثقافتی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

خطے کے لیے نئے امکانات

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ راہداری مکمل طور پر فعال ہو جاتی ہے تو ایران وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد زمینی گیٹ وے بن سکتا ہے، جو عالمی تجارت کے نقشے میں ایک اہم تبدیلی ثابت ہو گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button