
(تازہ حالات رپورٹ )
ایران کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام سے کسی بھی صورت دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ ایرانی قیادت اسے اپنی سلامتی اور بقا کی آخری مؤثر ضمانت سمجھتی ہے۔ یہ بات اسرائیلی ادارے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز سے وابستہ ایران پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر راز زِمٹ نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہی۔
ڈاکٹر زِمٹ کے مطابق ایران اس وقت امریکا کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم نہیں چاہتا، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ جنگ سے بچنے کے لیے تہران کس حد تک سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہے۔ ان کے بقول ایرانی قیادت کی کچھ واضح ’’ریڈ لائنز‘‘ ہیں اور بیلسٹک میزائل پروگرام ان میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
ماہر کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نزدیک میزائل صلاحیت وہ واحد مضبوط دفاعی ذریعہ ہے جو ملک کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ خامنہ ای کو امریکی ضمانتوں پر اعتماد نہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر ایران نے نہ صرف جوہری پروگرام بلکہ میزائل صلاحیت پر بھی بڑی رعایت دی تو امریکا چند ہی مہینوں میں ایران کی کمزوری سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

ڈاکٹر زِمٹ کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت کے نزدیک میزائل پروگرام ختم کرنے کا خطرہ، ممکنہ امریکی حملے سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق تہران یہ سمجھتا ہے کہ اگر امریکا بڑا حملہ بھی کرے تو بھی نظام حکومت کے مکمل خاتمے کا امکان کم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل اسرائیل کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔ ماضی میں زیادہ توجہ ایران کے جوہری پروگرام پر رہی، لیکن حالیہ پیش رفت نے ثابت کیا ہے کہ میزائل خود بھی بڑی تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، چاہے وہ جوہری ہتھیاروں سے لیس نہ ہوں۔
ماہر کے مطابق حالیہ برسوں میں اسرائیل اور امریکا ایران کے جوہری عزائم کو کسی حد تک محدود کرنے میں کامیاب رہے ہیں، مگر مکمل طور پر ختم نہیں کر سکے۔ اس لیے قلیل مدت میں میزائل پروگرام زیادہ فوری خطرہ بن چکا ہے، جبکہ طویل مدت میں جوہری مسئلہ بدستور اہم رہے گا۔

ایرانی داخلی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر زِمٹ نے کہا کہ ملک کی عوام اب بھی سخت احتجاجی کریک ڈاؤن کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کچھ لوگ معمول کی زندگی کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں، جبکہ کچھ حلقے کسی بیرونی دباؤ یا حملے کو نظام کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ انٹرنیٹ سروسز جزوی طور پر بحال ہو چکی ہیں، تاہم کئی پابندیاں اب بھی برقرار ہیں اور سیاسی کارکنوں و اصلاح پسند شخصیات کی گرفتاریاں جاری ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ ایرانی حکومت کسی بھی ممکنہ چیلنج کو روکنے کے لیے سخت کنٹرول برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر ایران کا میزائل پروگرام نہ صرف دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن میں بھی اس کی کلیدی حیثیت ہے، اسی لیے تہران اس معاملے پر کسی بڑے سمجھوتے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔



