
(تازہ حالات رپورٹ)
تل ابیب/مقبوضہ بیت المقدس:
اسرائیل کے وزیرِ توانائی ایلی کوہن نے اعتراف کیا ہے کہ ویسٹ بینک اقدامات دراصل خودمختاری کے مترادف، ویسٹ بینک میں حالیہ اسرائیلی اقدامات دراصل عملی طور پر اسرائیلی خودمختاری قائم کرنے کے مترادف ہیں اور ان کے نتیجے میں مستقبل میں کسی فلسطینی ریاست کے قیام کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔

اسرائیلی فوج کے ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے ایلی کوہن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے یہ اقدامات زمین پر ایسی حقیقت قائم کر رہے ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینی ریاست وجود میں نہیں آ سکے گی۔” ان کا کہنا تھا کہ ویسٹ بینک میں انتظامی اور قانونی تبدیلیاں اسرائیل کے طویل المدتی قومی مفادات کے مطابق ہیں۔

حالیہ دنوں میں اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے ایسے فیصلوں کی منظوری دی ہے جن کے تحت یہودی اسرائیلیوں کے لیے ویسٹ بینک میں زمین کی براہِ راست خریداری کو آسان بنایا گیا، بعض علاقوں میں فلسطینی اتھارٹی کے اختیارات محدود کیے گئے اور حساس مذہبی مقامات پر اسرائیلی کنٹرول کو مزید مضبوط کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق یہ اقدامات اوسلو معاہدوں کی روح کے منافی ہیں۔
فلسطینی قیادت اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان فیصلوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں “ڈی فیکٹو الحاق” قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ پالیسی دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید کمزور کرتی ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

ادھر بین الاقوامی سطح پر بھی ردِعمل سامنے آیا ہے۔ یورپی یونین اور متعدد عرب و مسلم ممالک نے ان اقدامات کو غیرقانونی اور خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے، جبکہ امریکہ نے رسمی طور پر ویسٹ بینک کے الحاق کی مخالفت دہراتے ہوئے خطے میں استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایک اسرائیلی وزیر کا اس نوعیت کا کھلا بیان اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ تل ابیب میں پالیسی ساز حلقوں کے اندر ویسٹ بینک کے مستقبل اور فلسطینی ریاست کے تصور پر سخت گیر مؤقف مضبوط ہو رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے عرصے میں امن کوششوں پر نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔



