ٹرمپ کی ایران کو آخری مہلت-4 شرائط مانو ورنہ بمباری

(تازہ حالات)ایران امریکا کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے- امریکا کا لاؤلشکر ایران کے قریب پڑاؤ ڈال چکا ہے – امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی صحافی باراک روید کو انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ حالات تبدیل ہو رہے ہیں کیونکہ امریکہ نے علاقے میں ایک بہت بڑا بحری بیڑہ بھیجا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی حکومت واقعی معاہدہ کرنا چاہتی ہے اور کئی بار رابطہ کر کے بات چیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔
امریکہ نے یو ایس ایس ایبراہم لنکن طیارہ بردار جہاز سمیت بڑا بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچا دیا ہے، جو وینزویلا والے سے بھی بڑا ہے۔

ٹرمپ نے کہا: “ہمارے پاس ایران کے قریب بہت بڑی طاقت ہے، وہ معاہدہ چاہتے ہیں، مجھے معلوم ہے، وہ بار بار فون کر رہے ہیں کہ بات کریں۔”
امریکی حکام کے مطابق ایران سے ممکنہ معاہدے کی سخت شرائط یہ ہیں: ایران سے تمام افزودہ یورینیم باہر نکالنا، لانگ رینج کے میزائلوں کی تعداد کم کرنا، علاقائی پراکسی گروہوں کی مدد بند کرنا، اور ایران میں خود یورینیم افزودگی پر مکمل پابندی لگانا۔
امریکی صحافی کے مطابق ٹرمپ نے ایران کی حکومت پر حملے کا آپشن غور کیا تھا مگر ابھی فیصلہ نہیں کیا، اس ہفتے مزید مشاورت ہوگی۔
یاد رہے امریکا کی فوجی تیاریاں جاری ہیں: مزید جنگی طیارے، ایندھن بھرنے والے طیارے اور فضائی دفاع کے سامان بھیجے جا رہے ہیں۔
امریکہ کے سینٹ کام کے اعلیٰ فوجی کمانڈر نے اسرائیل کا دورہ کیا تاکہ ممکنہ ردعمل پر بات ہو سکے۔
ٹرمپ کا موقف ہے کہ دباؤ ڈال کر ایران سے معاہدہ کروایا جا سکتا ہے، ورنہ فوجی کارروائی بھی ممکن ہے۔



