
تازہ حالات رپورٹ
انقرہ: ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ دنیا اس وقت “جوہری ناانصافی” کا شکار ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کا معاملہ ایک اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک مسئلہ ہے، جسے وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات پیر کی شام سی این این ترک کو دیے گئے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہی، جہاں ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا ترکی کو بھی جوہری ہتھیار رکھنے چاہییں؟
فیدان نے اپنے جواب میں واضح کیا کہ عالمی نظام میں ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے مساوی اصول لاگو نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تحت 1970 سے پہلے جو ممالک ایٹمی طاقت تھے — امریکا، روس، چین، فرانس اور برطانیہ — وہ آج بھی یہ صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ دیگر ممالک کو اس دوڑ سے باہر رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے میں یہ بھی طے تھا کہ ایٹمی طاقتیں اپنے ہتھیاروں میں کمی کریں گی اور دیگر ممالک کو پرامن ایٹمی توانائی تک رسائی دی جائے گی، مگر عملی طور پر دونوں وعدے مکمل طور پر پورے نہیں ہوئے۔ “اسی لیے ہم اسے عالمی سطح پر جوہری ناانصافی قرار دیتے ہیں،” فیدان نے کہا۔
ایٹمی دوڑ کا خدشہ
ترک وزیر خارجہ نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ مستقبل میں مزید ممالک جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، خصوصاً اگر امریکا اپنے روایتی اتحادیوں کو فراہم کردہ دفاعی تحفظ میں کمی کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورت حال میں ایشیا پیسیفک اور یورپ کے کچھ ممالک ایٹمی صلاحیت کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔

جب ان سے ایران کے ممکنہ جوہری پروگرام اور خطے کے توازن پر سوال کیا گیا تو فیدان نے کہا کہ ترکی خطے میں طاقت کے توازن میں “ڈرامائی تبدیلی” نہیں چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ایک ملک کی جوہری برتری خطے میں تعاون کی فضا کو متاثر کر سکتی ہے اور دوسرے ممالک کو بھی اسی راستے پر چلنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: “اگر علاقائی توازن بگڑتا ہے تو ممکن ہے کہ ہم بھی اس دوڑ میں شامل ہونے پر مجبور ہو جائیں، چاہے ہم ایسا نہ بھی چاہیں۔ لیکن یہ خطے کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا۔”
محتاط مگر معنی خیز اشارہ
اگرچہ فیدان نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ ترکی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم ان کے بیانات کو ایک اسٹریٹجک انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ترکی اس معاملے کو کھلے عام اعلان کی بجائے سفارتی اور تزویراتی سطح پر ایک دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی کشیدگی، نیٹو کے مستقبل، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ایران کے جوہری پروگرام جیسے عوامل نے انقرہ کو اپنی طویل المدتی سکیورٹی حکمت عملی پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔
فی الحال ترکی جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی مخالفت کرتا ہے، تاہم فیدان کا بیان اس بات کا اشارہ ضرور دیتا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں طاقت کا توازن اور دفاعی حکمت عملی بڑے سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔



