
تہران: ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر ملک بھر میں بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالی گئیں، جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور اسلامی جمہوریہ کے قیام کی یاد تازہ کی۔
تہران کے آزادی اسکوائر اور آزادی ٹاور کے اطراف عوام کا بڑا اجتماع دیکھنے میں آیا۔ مظاہرین ایرانی پرچموں کے ساتھ ساتھ سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے۔ ریلیوں کے دوران امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بھی لگائے گئے، جبکہ بعض مقامات پر ان ممالک کے پرچم نذرِ آتش کیے گئے۔
سرکاری میڈیا نے ریلیوں میں گزشتہ برس اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ کشیدگی کے دوران استعمال ہونے والے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی تصاویر اور نمائش کو نمایاں طور پر دکھایا۔ بعض مقامات پر علامتی طور پر امریکی پرچم میں لپٹے تابوت بھی رکھے گئے، جن پر امریکی فوجی کمانڈروں کے نام درج تھے۔

سیاسی اور سفارتی پس منظر
یہ تقریبات ایسے وقت میں ہوئیں جب ایران کو بیک وقت بیرونی دباؤ اور اندرونی معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ گزشتہ ماہ ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں کمی اور مہنگائی کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے، جنہیں بعد میں سختی سے کنٹرول کیا گیا۔
اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد پر زور دیا اور کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ بات چیت “منصفانہ اور متوازن” ہو۔ انہوں نے بیرونی دباؤ کو “امپیریل طاقتوں کی سازشیں” قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوم کی یکجہتی ہی اصل طاقت ہے۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی موجودگی بڑھانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ امریکی حکام ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی بات کرتے رہے ہیں، جبکہ خطے میں ممکنہ کشیدگی کے خدشات بھی موجود ہیں۔
تاریخی پس منظر
1979 میں عوامی تحریک کے نتیجے میں ایران کے آخری شاہ کا اقتدار ختم ہوا اور اسلامی جمہوریہ کا قیام عمل میں آیا، جس کے پہلے سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی بنے۔ تب سے ہر سال 11 فروری کو انقلاب کی سالگرہ سرکاری سطح پر منائی جاتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس سال کی تقریبات محض روایتی جشن نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہیں—ایک طرف حکومت عوامی حمایت کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے، تو دوسری طرف عالمی برادری کو یہ اشارہ دینا چاہتی ہے کہ داخلی اختلافات کے باوجود ریاستی ڈھانچہ مضبوط ہے۔
آتش بازی اور سرکاری تقاریب کے ساتھ یہ دن اختتام پذیر ہوا، تاہم خطے کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر آئندہ ہفتے ایران کی سفارتی اور عسکری حکمتِ عملی کے حوالے سے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔



