
تل ابیب / قاہرہ: اسرائیل اور مصر کی سرحد پر بدھ کے روز اس وقت غیر معمولی سیکیورٹی سرگرمی دیکھنے میں آئی جب چند مصری سول ٹرک سرحدی باڑ کے قریب پہنچ گئے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ گاڑیاں نیگیو صحرا میں واقع اسرائیلی بستی "شلومیت” کے قریب دیکھی گئیں، جو غزہ، مصر اور اسرائیل کے سہ فریقی سرحدی علاقے کے نزدیک ہے۔
رپورٹس کے مطابق گاڑیاں تقریباً 100 میٹر کے فاصلے تک اسرائیلی حدود کے قریب آئیں، جس کے بعد اسرائیلی فوج نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے اضافی نفری، بکتر بند گاڑیاں، ٹینک اور جنگی ہیلی کاپٹر علاقے میں بھیج دیے۔ تاہم فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ ٹرکوں میں عام شہری موجود تھے اور کسی قسم کا مسلح تصادم یا سیکیورٹی خلاف ورزی پیش نہیں آئی۔

اسرائیلی فوج نے واضح کیا کہ تعیناتی احتیاطی تدبیر کے طور پر کی گئی اور یہ اقدام مصری حکام کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے تحت انجام دیا گیا۔ قریبی اسرائیلی آبادیوں کو بھی آگاہ کیا گیا کہ سرحدی صورتحال قابو میں ہے اور کسی فوری خطرے کی اطلاعات نہیں ہیں۔
اخبار Yedioth Ahronoth نے ان گاڑیوں کو "مشتبہ” قرار دیتے ہوئے لکھا کہ زمینی افواج کو الرٹ رہنے اور ضرورت پڑنے پر انہیں آبادیوں سے دور دھکیلنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ تاہم چند گھنٹوں بعد صورتحال معمول پر آ گئی اور کسی جھڑپ کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں اسرائیل اور مصر کے تعلقات سے متعلق بیانات میں سختی دیکھی گئی ہے۔ رواں ماہ کے آغاز پر اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu نے مصری فوجی سرگرمیوں میں اضافے پر تشویش ظاہر کی تھی، جس کے بعد علاقائی مبصرین نے قیاس آرائیاں شروع کر دی تھیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب مصر اور اسرائیل کے درمیان 1979 کا تاریخی امن معاہدہ اب بھی خطے کے استحکام کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، جس کے تحت جزیرہ نما سینا کے بعض حصوں کو غیر عسکری حیثیت دی گئی تھی۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق سرحدی علاقوں میں کسی بھی غیر متوقع نقل و حرکت کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں سیکیورٹی خدشات اور سفارتی کشیدگی پہلے ہی موجود ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ واقعہ کسی بڑے تصادم میں تبدیل نہیں ہوا، تاہم اس نے ایک بار پھر اس حساس سرحد کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے جہاں معمولی سرگرمی بھی فوری عسکری ردِعمل کا سبب بن سکتی ہے۔ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں اور صورتحال مستحکم بتائی جا رہی ہے۔



