ایرانتازہ ترین

ایران، امریکہ اور خطے کی بدلتی صورتحال: میزائل پروگرام، جوہری مذاکرات اور تیل کی سیاست

(تازہ حالات رپورٹ)

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوہری مذاکرات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں سفارت کاری، عسکری دباؤ اور معاشی مفادات ایک ساتھ جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ حالیہ بیانات اور سفارتی اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران ممکنہ امریکی یا اسرائیلی فوجی کارروائی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے نئی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے۔

میزائل پروگرام پر مشروط آمادگی؟

اطلاعات کے مطابق ایران نے پہلی بار یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بات چیت کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کر رہا، تاہم اسے موجودہ جوہری مذاکرات میں پیش رفت سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے عمانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر جوہری معاہدہ طے پا جاتا ہے تو دیگر معاملات پر بھی بات ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان دراصل مذاکرات کو طول دینے اور امریکہ سے مزید رعایتیں حاصل کرنے کی سفارتی کوشش ہو سکتی ہے۔ ایران ممکنہ طور پر یہ حساب لگا رہا ہے کہ بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنے سے عسکری کارروائی کا امکان کم کیا جا سکتا ہے، جبکہ مکمل انکار کی صورت میں خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

2015 کے معاہدے سے موازنہ

ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے میں ایران نے اپنے نیوکلیئر پروگرام پر نمایاں پابندیاں قبول کی تھیں۔ موجودہ مذاکرات میں ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی رعایتیں نسبتاً محدود بتائی جا رہی ہیں۔ اسی وجہ سے واشنگٹن اور اس کے اتحادی تہران کے ارادوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی تشویش اور سفارتی رابطے

اسرائیلی ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے حالیہ ملاقات میں امریکی قیادت پر زور دیا کہ ایران کو اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر سخت شرائط ماننے پر مجبور کیا جائے۔ بعض مغربی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران تیزی سے اپنے میزائل ذخائر اور تکنیکی صلاحیتوں کو بحال کر رہا ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

ایرانی تیل اور عالمی منڈی

اسی دوران ایران کی تیل برآمدات اور مبینہ غیر قانونی تجارت بھی زیرِ بحث ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایرانی تیل لے جانے والے بحری جہازوں کو روکنے یا ضبط کرنے کے آپشن پر غور کیا گیا، مگر خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ایسا اقدام ایران کی جانب سے فوری ردِعمل کو جنم دے سکتا ہے۔ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اگر اس کی تیل تجارت کو نشانہ بنایا گیا تو وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی کو متاثر کر سکتا ہے—یہ راستہ عالمی تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

خطے کے لیے ممکنہ اثرات

سیاسی مبصرین کے مطابق صورتحال کئی سمتوں میں جا سکتی ہے۔ اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو کشیدگی میں کمی اور معاشی استحکام کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر فریقین اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہے تو سفارتی عمل کمزور پڑ سکتا ہے اور خطہ ایک نئے بحران کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

فی الحال سفارتی دروازے بند نہیں ہوئے، مگر آنے والے ہفتے اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ تنازع مذاکرات کی میز پر حل ہوگا یا خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button