تازہ ترینرشیا یوکرین

روس۔یوکرین جنگ: دن 1449 کی اہم پیش رفتیں

تازہ حالات رپورٹ:روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے 1449ویں دن بھی مختلف محاذوں پر شدید جھڑپوں اور سفارتی سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ جمعرات 12 فروری کو دارالحکومت کیف سمیت کئی علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کی گونج سنائی دی، جب کہ یورپ اور امریکہ میں یوکرین سے متعلق سیاسی و عسکری فیصلوں پر بھی پیش رفت ہوئی۔

کیف اور مشرقی محاذ پر حملے

یوکرین کی فوجی انتظامیہ کے مطابق علی الصبح روسی میزائلوں نے کیف کو نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین نے دھماکوں کی آوازیں سننے کی تصدیق کی، تاہم ابتدائی طور پر جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حملے سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

دنیپروپیٹروسک کے علاقے سینیلی نکوفے میں روسی حملوں کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ مقامی حکام کے مطابق مرنے والوں میں ایک معمر جوڑا اور ان کا بیٹا شامل ہے۔ خارکیف میں ایک ایمبولینس پر ڈرون حملے میں ایک خاتون جان سے گئی، جب کہ ایمبولینس میں موجود طبی عملہ اور شہری محفوظ رہے۔

ادھر مغربی شہر لویو کے میئر کا کہنا ہے کہ یوکرینی فضائی دفاع نے شہر کی جانب آنے والے دو روسی ’کنزال‘ میزائل مار گرائے۔ دوسری جانب یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے روس کے وولگوگراد میں ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، جہاں آگ بھڑک اٹھی۔

سرحدی علاقوں میں جوابی حملے

روس کے بیلگورود اور بریانسک علاقوں میں یوکرینی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ روسی حکام کے مطابق بیلگورود میں ایک شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ پانی کی فراہمی کا نظام بھی متاثر ہوا۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بریانسک میں ایک زرعی کمپنی کا ملازم ڈرون حملے میں مارا گیا۔

سفارتی محاذ پر سرگرمیاں

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو نیو اسٹارٹ معاہدے کے تحت جوہری ہتھیاروں کی حدود کا احترام کرے گا، بشرطیکہ امریکہ بھی ایسا ہی کرے۔ یورپی کمیشن نے ڈرون نگرانی کی صلاحیت بہتر بنانے اور رجسٹریشن کے قوانین سخت کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

ادھر یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے گفتگو کی اور ممکنہ امن مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا۔ زیلنسکی نے ان خبروں کی تردید کی کہ وہ 24 فروری کو صدارتی انتخاب یا ریفرنڈم کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکہ میں آئندہ امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش قبول کر چکے ہیں۔

پولینڈ اور اٹلی نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجوزہ “بورڈ آف پیس” میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ اس کی ساخت اور اختیارات پر آئینی اور سیاسی تحفظات موجود ہیں۔

عسکری و مالی امداد

برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو امریکی ساختہ ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے 150 ملین پاؤنڈ فراہم کرے گا۔ امریکی دفاعی کمپنی نارتھروپ گرومن اور پولینڈ کی ایک اسلحہ ساز کمپنی سالانہ 1 لاکھ 80 ہزار سے زائد توپ خانے کے گولے تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں، جو یوکرین کی جنگی ضروریات کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ نے بھی یوکرین کو توانائی کے شعبے میں فوری امداد کے لیے 32 ملین سوئس فرانک کی منظوری دی ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے 90 ارب یورو کے امدادی قرض کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے زیلنسکی نے اسے “جارحیت کے خلاف مضبوط پیغام” قرار دیا۔

مجموعی صورتحال

تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ اب بھی شدت کے ساتھ جاری ہے اور کسی فوری جنگ بندی کے آثار نمایاں نہیں۔ عسکری محاذ پر حملوں کا تبادلہ جاری ہے، جب کہ سفارتی سطح پر بھی نئی صف بندیاں اور اقدامات سامنے آ رہے ہیں۔ آنے والے دن اس تنازع کے رخ کا تعین کرنے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button