ٹرمپ کا پینٹاگون کو کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی خریدنے کا حکم، ماحولیاتی حلقوں میں تشویش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں سے طویل مدتی بنیادوں پر بجلی خریدے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں کوئلے کی صنعت مسابقت میں کمی اور ماحولیاتی خدشات کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔
بدھ کے روز دستخط کیے گئے ایک ایگزیکٹو آرڈر میں صدر ٹرمپ نے محکمہ دفاع کو ہدایت کی کہ وہ کوئلے سے پیدا ہونے والی توانائی کے حصول کے لیے طویل مدتی معاہدے کرے اور کوئلے پر مبنی توانائی کے اثاثوں کے “تحفظ اور اسٹریٹجک استعمال” کو ترجیح دے۔ حکم نامے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پینٹاگون کتنی مقدار میں بجلی خریدے گا یا مالی شرائط کیا ہوں گی۔
وائٹ ہاؤس میں کوئلے کی صنعت سے وابستہ افراد اور کان کنوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ کوئلہ امریکی صنعت اور توانائی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام گھریلو پیداوار، روزگار اور توانائی کے تحفظ کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے۔
صدر نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکی محکمہ توانائی شمالی کیرولائنا، اوہائیو، ویسٹ ورجینیا، کینٹکی اور ورجینیا میں واقع چھ کوئلہ بجلی گھروں کی اپ گریڈیشن کے لیے 175 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
کوئلے کی صنعت کا پس منظر
امریکہ میں کوئلے کی پیداوار گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل کم ہو رہی ہے۔ قدرتی گیس اور قابلِ تجدید توانائی جیسے ہوا، شمسی اور پن بجلی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے کوئلے کی طلب کو متاثر کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2008 سے 2023 کے درمیان کوئلے کی پیداوار میں نصف سے زیادہ کمی آئی، جبکہ توانائی کے مجموعی ذرائع میں اس کا حصہ نمایاں طور پر گھٹ چکا ہے۔

ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئلے سے بجلی پیدا کرنا نہ صرف مہنگا ہو چکا ہے بلکہ یہ کاربن کے اخراج میں بھی نمایاں کردار ادا کرتا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ کچھ مطالعات کے مطابق امریکہ میں زیادہ تر کوئلہ بجلی گھر قابلِ تجدید توانائی کے متبادل کے مقابلے میں زیادہ لاگت رکھتے ہیں۔
سیاسی اور پالیسی پہلو
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی کوئلے کو “صاف اور خوبصورت ایندھن” قرار دے کر اس کی بحالی کی حمایت کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی صدارت کے آغاز پر “توانائی ایمرجنسی” کا اعلان کیا تھا تاکہ بند ہونے والے کوئلہ بجلی گھروں کو فعال رکھا جا سکے۔ حالیہ مہینوں میں کئی بجلی گھروں کی ریٹائرمنٹ مؤخر کی جا چکی ہے۔
اسی دوران ٹینیسی ویلی اتھارٹی، جو امریکہ کی سب سے بڑی عوامی یوٹیلٹی کمپنی ہے، نے دو کوئلہ بجلی گھروں کی عمر میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ انہیں 2035 تک بند کرنے کا منصوبہ تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدامات توانائی پالیسی کے حوالے سے امریکہ میں جاری بحث کو مزید تیز کر سکتے ہیں، جہاں ایک جانب صنعتی اور توانائی خود کفالت کے دلائل پیش کیے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب ماحولیاتی اثرات اور عالمی موسمیاتی اہداف پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔



