قاہرہ میں ہنگامی عرب اجلاس، ٹرمپ سے مغربی کنارے کے الحاق کو روکنے کا مطالبہ

قاہرہ میں عرب لیگ کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں رکن ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) کے الحاق سے روکنے کے اپنے وعدے پر عمل کریں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فلسطینی اراضی پر قبضے اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے سے متعلق اسرائیلی اقدامات “قانونی حیثیت نہیں رکھتے”۔
یہ اجلاس متحدہ عرب امارات کی صدارت میں عرب لیگ کونسل کے مندوبین کی سطح پر بلایا گیا، جو فلسطین کی درخواست اور رکن ممالک کی حمایت سے منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور حالیہ قانونی اقدامات کے خلاف عرب اور بین الاقوامی سطح پر مشترکہ حکمتِ عملی طے کرنا تھا۔
اسرائیلی فیصلوں پر تشویش
اتوار کو اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے ایسے فیصلوں کی منظوری دی تھی جن کا مقصد مغربی کنارے میں قانونی اور انتظامی صورتحال کو تبدیل کرنا بتایا گیا ہے۔ ان فیصلوں کے تحت اسرائیلی حکام کو بعض ایسے علاقوں میں بھی کارروائی کا اختیار مل سکتا ہے جو اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی انتظامیہ کے کنٹرول میں شمار ہوتے ہیں۔

1995 کے اوسلو II معاہدے کے مطابق مغربی کنارہ تین حصوں—A، B اور C—میں تقسیم ہے۔ ایریا A مکمل طور پر فلسطینی انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے، ایریا B میں سول کنٹرول فلسطینی جبکہ سکیورٹی کنٹرول اسرائیل کے پاس ہے، جبکہ ایریا C مکمل اسرائیلی کنٹرول میں ہے اور یہ علاقہ مغربی کنارے کا تقریباً 60 فیصد بنتا ہے۔
عرب لیگ نے خبردار کیا کہ کسی بھی فلسطینی علاقے کا الحاق بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہوگا اور خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔
جبری بے دخلی کی مخالفت
اجلاس میں غزہ اور مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، سے فلسطینیوں کی کسی بھی ممکنہ بے دخلی یا آبادیاتی تبدیلی کو مسترد کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات دو ریاستی حل کی کوششوں کو کمزور کریں گے اور خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں۔
کونسل نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ الحاق اور بستیوں کی توسیع کے اقدامات روکے جا سکیں۔ ساتھ ہی فلسطینی عوام کے لیے بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

سفارتی پہلو
اجلاس میں ارجنٹینا سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل نہ کرے، کیونکہ ایسا اقدام عرب ممالک کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں سفارتی سطح پر یروشلم کی حیثیت کے معاملے پر نئی بحث چھڑی ہوئی ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ وہ مغربی کنارے کے الحاق کے اقدام کی حمایت نہیں کرتے۔ تاہم زمینی صورتحال اور جاری کشیدگی کے تناظر میں عرب ممالک نے واضح کیا کہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
فلسطینی حکام کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری کشیدگی کے دوران مغربی کنارے میں ہلاکتوں، گرفتاریوں اور بستیوں کی توسیع میں اضافہ ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دن اس مسئلے کے سفارتی اور سیاسی رخ کا تعین کرنے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں



