تازہ ترینفلسطین

غزہ: جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں 591 فلسطینی جاں بحق، مجموعی ہلاکتیں 72 ہزار سے تجاوز

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے بعد بھی پیش آنے والے حملوں اور جھڑپوں کے نتیجے میں 10 اکتوبر 2025 سے اب تک کم از کم 591 فلسطینی جاں بحق اور 1,578 زخمی ہو چکے ہیں۔ بدھ کو جاری کیے گئے تازہ اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 8 افراد کی لاشیں اور 20 زخمی مختلف اسپتالوں میں لائے گئے، جن میں سے تین لاشیں ملبے تلے سے نکالی گئیں۔

وزارت کے مطابق 8 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 72,045 اور زخمیوں کی تعداد 1,71,686 ہو گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں، جبکہ کچھ علاقوں تک ایمبولینس اور سول ڈیفنس کی ٹیموں کی رسائی ممکن نہیں۔

جنگ بندی اور اس کی صورتحال

جنگ بندی معاہدہ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا، جسے بین الاقوامی ثالثی کی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا۔ تاہم فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کے بعد بھی فضائی حملوں اور فائرنگ کے واقعات جاری رہے۔ اسرائیلی حکام عام طور پر یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ کارروائیاں سکیورٹی خدشات یا حملوں کے جواب میں کی جاتی ہیں۔ ان متضاد دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق مشکل رہی ہے۔

امریکی انتظامیہ نے جنوری کے وسط میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا تھا، جس میں قیدیوں کے تبادلے، انسانی امداد میں اضافے اور تعمیرِ نو کے اقدامات شامل تھے۔ تاہم زمینی سطح پر پیش رفت سست بتائی جا رہی ہے۔

انسانی اور معاشی اثرات

اقوامِ متحدہ کے تخمینوں کے مطابق دو سالہ لڑائی کے دوران غزہ کے تقریباً 90 فیصد شہری ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جن میں رہائشی عمارتیں، اسپتال، اسکول اور پانی و بجلی کا نظام شامل ہیں۔ تعمیرِ نو کے لیے تقریباً 70 ارب ڈالر درکار ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ صاف پانی، خوراک اور طبی سہولیات کی شدید کمی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

عالمی ردعمل

عالمی برادری کی جانب سے فریقین سے تحمل اور مستقل جنگ بندی پر عمل کی اپیلیں جاری ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے کی مکمل پاسداری نہ کی گئی تو انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے اور خطے میں عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

فی الحال غزہ میں صورتحال بدستور نازک ہے، اور عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button