ایرانتازہ ترین

اسرائیل کا ایران کی سب سے بڑی طاقتور شخصیت علی لاریجانی کو قتل کرنے کادعوی؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران اسرائیلی فوج نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بناتے ہوئے ایک اہم کارروائی میں سینئر رہنما علی لاریجانی کو ہلاک کر دیا ہے۔ اگر اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑی ٹارگٹڈ کارروائیوں میں شمار کی جائے گی۔

اسرائیلی حکام کے مطابق اس حملے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی اور ان کے نائب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مزید یہ کہ فضائیہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ کارروائیاں خفیہ مقامات پر کی گئیں جہاں اعلیٰ شخصیات کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

علی لاریجانی نے اپنے ہاتھ سے لکھا خط جاری کردیا جس میں بحری جہاز میں شہید ہونے والوں سے تعزیت کی گئی.

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق علی لاریجانی کو ایران کی موجودہ طاقتور شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کی اعلیٰ قیادت کو پہلے ہی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ انہیں ایران کے اندرونی معاملات اور مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات میں ایک اہم کردار کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس دعوے کی فوری اور واضح تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ لاریجانی کی جانب سے عوامی خطاب متوقع ہے، جس سے صورتحال مزید غیر واضح ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق جنگی حالات میں اس طرح کے دعووں کی تصدیق میں وقت لگ سکتا ہے اور معلوماتی جنگ بھی اس کا حصہ ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ایران کی اعلیٰ قیادت کو اس پیمانے پر نقصان پہنچا ہے تو اس کے اثرات ملک کے سیاسی اور سیکیورٹی ڈھانچے پر پڑ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران کی جانب سے اس کا سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایران کے اندر قیادت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر اہم شخصیات مسلسل نشانے پر رہتی ہیں۔

اسرائیل کے دعوے کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کی یہ بڑی کارروائی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، تاہم مکمل حقائق کی تصدیق ابھی باقی ہے اور صورتحال بدستور غیر واضح ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button