برطانیہ کے ایئربیس پر A-10 طیارے، ایران جنگ میں کردار کی قیاس آرائیاں

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
برطانیہ کے سوفولک میں واقع رائل ایئر فورس کے لیکنهیتھ بیس پر امریکی فضائیہ کے طاقتور “A-10 تھنڈر بولٹ” طیاروں کی آمد نے دفاعی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ماہرین ان کی ممکنہ مشرق وسطیٰ منتقلی کو ایران سے جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پیر کی شام 12 امریکی A-10C طیارے، جنہیں عام طور پر “وارتهوگ” یا “ٹینک بسٹر” کہا جاتا ہے، دو مختلف گروپوں کی صورت میں بیس پر اترے۔ اطلاعات ہیں کہ مزید طیارے بھی پہنچ سکتے ہیں، تاہم امریکی فوج نے ان کی حتمی تعیناتی یا مشن کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
یہ طیارے زمینی افواج کی مدد اور بھاری بکتر بند اہداف کو تباہ کرنے کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ ان کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کا طاقتور GAU-8 Avenger گن سسٹم ہے، جو فی منٹ ہزاروں گولیاں فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور میدانِ جنگ میں انتہائی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ان طیاروں کی لیکنهیتھ آمد اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ امریکہ اپنی فضائی طاقت کو مشرق وسطیٰ میں مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طیارے یا تو پہلے سے جاری آپریشنز کو وسعت دینے کے لیے بھیجے جا رہے ہیں یا پھر موجودہ فورسز کو مضبوط بنانے کے لیے۔

امریکی عسکری حکام پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ A-10 طیارے ایران کے ساحلی علاقوں میں تیز رفتار کشتیوں اور بارودی سرنگیں بچھانے والے اہداف کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہو رہے ہیں، جبکہ عراق میں ایران نواز گروہوں کے خلاف بھی ان کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔
لیکنهیتھ ایئربیس کے باہر بڑی تعداد میں طیارہ شوقین افراد جمع ہوئے، جنہوں نے ان جدید جنگی طیاروں کی لینڈنگ کو قریب سے دیکھا۔ کچھ افراد کا کہنا تھا کہ یہ تعیناتی خطے میں بڑھتی کشیدگی اور ممکنہ بڑے آپریشن کی تیاری کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق A-10 جیسے طیاروں کی تعیناتی عام طور پر اس وقت کی جاتی ہے جب زمینی اہداف پر براہ راست اور مؤثر کارروائی کی ضرورت ہو، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ ممکنہ طور پر اپنے آپریشنز کو مزید شدت دینے کے لیے تیار ہے۔
موجودہ صورتحال میں یہ پیش رفت اس وسیع تر فوجی حکمت عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہے جس کے تحت امریکہ خطے میں اپنی موجودگی کو مضبوط کر رہا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں اس کے اثرات مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔



