
(تازہ حالات رپورٹ )
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اہم اور حساس نوعیت کے دوسرے مرحلے کے جوہری مذاکرات کے لیے جنیوا پہنچ گئے ہیں، جہاں منگل کو امریکا کے ساتھ بات چیت متوقع ہے۔ ان مذاکرات کو خطے میں بڑھتی کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
“دھمکیوں کے آگے جھکاؤ نہیں ہوگا”
عباس عراقچی نے جنیوا پہنچنے کے بعد سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ وہ “منصفانہ اور متوازن معاہدے” کے لیے عملی تجاویز کے ساتھ آئے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ “دباؤ کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے۔”
ایرانی حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ صفر یورینیم افزودگی کا مطالبہ ان کے لیے ناقابل قبول ہے اور میزائل پروگرام کو وہ اپنی “ریڈ لائن” قرار دیتے ہیں۔
آئی اے ای اے سے اہم ملاقات
ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات سے قبل عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی سے بھی ملاقات کریں گے۔ اقوام متحدہ کا یہ ادارہ ایران کی اُن جوہری تنصیبات تک رسائی چاہتا ہے جنہیں گزشتہ برس امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

تہران کا مؤقف ہے کہ ملبے تلے دبے افزودہ یورینیم تک رسائی اور معائنہ ایک حساس اور تکنیکی عمل ہے، جس کے لیے خصوصی حفاظتی پروٹوکول درکار ہوگا۔
پس منظر: سفارت کاری اور فوجی دباؤ ساتھ ساتھ
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب واشنگٹن خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا چکا ہے، جس میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی شامل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران میں ممکنہ “نظام کی تبدیلی” کا عندیہ بھی دیا، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای خبردار کر چکے ہیں کہ کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
ثالثی کا کردار
عراقچی اپنے اومانی ہم منصب سے بھی ملاقات کریں گے، جنہوں نے پہلے مرحلے کی بات چیت میں ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس بار مذاکرات میں تکنیکی ماہرین کی شرکت بھی ہوگی تاکہ افزودگی، پابندیوں میں نرمی اور نگرانی کے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
آگے کیا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر پیش رفت نہ ہوئی تو اقتصادی دباؤ، علاقائی کشیدگی اور فوجی تیاریوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم فریقین کی حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
اب نظریں منگل کو ہونے والی براہِ راست بات چیت پر ہیں، جہاں طے ہوگا کہ سفارت کاری کامیاب ہوتی ہے یا خطہ ایک نئے بحران کی طرف بڑھتا ہے



