
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں باضابطہ طور پر زمینی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے بیان میں کہا کہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مشاورت کے بعد فوج کو جنوبی لبنان میں مزید اہم مقامات پر پیش قدمی اور قبضہ برقرار رکھنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق دستوں کو ان پانچ پوزیشنز سے آگے تعینات کیا گیا ہے جو 2024 کی جنگ بندی کے بعد سے اس کے زیرِ کنٹرول تھیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ یہ اقدام “بہتر دفاعی حکمتِ عملی” کا حصہ ہے، جس کا مقصد شمالی اسرائیلی آبادیوں پر براہِ راست حملوں کو روکنا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں۔ لبنانی تنظیم حزب اللہ نے پیر کے روز شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جنہیں اس نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کا ردعمل قرار دیا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافات پر شدید فضائی حملے کیے، جن میں درجنوں افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
لبنان کے جنوبی علاقوں میں ایک بار پھر شہری نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں حالات غیر یقینی کا شکار ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر زمینی کارروائی طویل ہوتی ہے تو یہ 2006 کی جنگ جیسی صورتحال کو دوبارہ جنم دے سکتی ہے، جس کے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہوئے تھے۔
علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے پس منظر میں لبنان کا محاذ کھلنا مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع تر تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ سفارتی سطح پر جنگ بندی کی اپیلیں جاری ہیں، تاہم زمینی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔



