ایرانتازہ ترین

ایرانی میزائل حملوں کے بعد امریکی فضائی دفاعی نظام پر سوالیہ نشان؛ بحرین میں سیکیورٹی صورتحال سنگین

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایران کی جانب سے بحرین میں قائم امریکی بحری اڈے کو نشانہ بنانے کے بعد خطے میں موجود امریکی فضائی دفاعی نظام کی مؤثریت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کی حالیہ کارروائیوں کے جواب میں ایران نے امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کے قریب میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

اگرچہ اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، لیکن سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ میزائل اور ڈرون اڈے کے قریب گرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر امریکی افواج کو پہلے سے الرٹ جاری کیا گیا تھا، جس کے باعث اہلکاروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔

فضائی دفاع کی کمزوریاں یا محدود وسائل؟

سابق برطانوی بحری کمانڈر ٹام شارپ کے مطابق ایران نے بحرین کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ ماضی میں وہاں کے فضائی دفاع کو محدود سمجھا جاتا رہا ہے۔ بعض ویڈیوز میں مبینہ طور پر ایرانی “شاہد” ڈرون کو دفاعی نظام عبور کرتے دیکھا گیا، حالانکہ یہ نسبتاً سست رفتار ڈرون ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے ڈرون بعض اوقات سادہ ہتھیاروں سے بھی گرائے جا سکتے ہیں، جیسا کہ یوکرین میں دیکھا گیا۔

امریکی دفاعی تیاری

حالیہ ہفتوں میں امریکہ نے خطے میں پیٹریاٹ اور تھاڈ (THAAD) جیسے جدید میزائل دفاعی نظام تعینات کیے ہیں۔ تاہم یہ نظام مہنگے اور محدود تعداد میں دستیاب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر یوکرین کے پاس دس سے بھی کم پیٹریاٹ سسٹم موجود ہیں اور اس کے باوجود وہ مکمل فضائی تحفظ فراہم نہیں کر پا رہے۔

امریکی بحریہ نے خلیج اور مشرقی بحیرۂ روم میں متعدد جدید ڈسٹرائر تعینات کیے ہیں، جو ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 2024 سے 2026 کے دوران امریکہ نے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے تقریباً 400 ڈرون اور میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

فضائیہ کا کردار

امریکی فضائیہ کے 100 سے زائد جنگی طیارے بھی خطے میں موجود ہیں، جو ڈرون اور میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی فضائی دفاعی نظام کی مکمل کامیابی ممکن نہیں ہوتی، خاص طور پر جب بیک وقت بڑی تعداد میں اہداف داغے جائیں۔

بڑھتی کشیدگی اور خدشات

ایرانی حملوں کے بعد واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں میں تشویش پائی جا رہی ہے کہ خطے میں فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود کوئی بھی نظام مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر نہیں ہوتا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button