
تہران(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ملک میں طاقت کے توازن پر بحث تیز ہو گئی ہے، اور سینئر سیاست دان و سیکیورٹی رہنما علی لاریجانی ایک مرکزی کردار کے طور پر ابھر رہے ہیں۔
علی لاریجانی نے اتوار کو اعلان کیا کہ موجودہ صورتحال میں ایک عبوری قیادت کونسل قائم کی جائے گی جو ملک کے انتظامی امور سنبھالے گی۔ مبصرین کے مطابق لاریجانی گزشتہ ایک سال سے سیکیورٹی ڈھانچے میں نمایاں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور انہیں اسٹیبلشمنٹ کا قابلِ اعتماد چہرہ سمجھا جاتا ہے۔
کون ہیں علی لاریجانی؟
لاریجانی ایران کے معروف مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ماضی میں قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری، پارلیمنٹ کے اسپیکر، سرکاری میڈیا کے سربراہ اور جوہری مذاکرات کار کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
حالیہ برسوں میں انہوں نے جوہری مذاکرات، علاقائی تعلقات اور داخلی سیکیورٹی امور کی نگرانی کی۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے کی کوششوں میں بھی شامل تھے، حالانکہ واشنگٹن نے انہیں جنوری میں احتجاجی مظاہروں کے خلاف سخت کارروائی کے الزام میں پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

اعتدال پسند یا اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق لاریجانی کو سخت گیر اور اعتدال پسند دھڑوں کے درمیان ایک نسبتاً عملی (pragmatic) شخصیت سمجھا جاتا ہے، جو مختلف سیاسی گروہوں کے ساتھ روابط رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے روس سمیت اہم اتحادی ممالک کے دورے بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ خارجہ پالیسی میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
عبوری مرحلہ اور مستقبل
خامنہ ای کے بعد ایران کو ایک حساس عبوری دور کا سامنا ہے۔ مجلسِ خبرگان کی جانب سے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک عبوری کونسل کا قیام ممکنہ طور پر سیاسی استحکام برقرار رکھنے کی کوشش ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور مذہبی اسٹیبلشمنٹ کا کردار اس مرحلے میں انتہائی اہم ہوگا۔ اگر لاریجانی واقعی عبوری ڈھانچے کے کلیدی رہنما بنتے ہیں تو یہ ایران کی پالیسی میں کسی حد تک لچک یا کم از کم داخلی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی کوشش کی علامت ہو سکتی ہے۔



