
تازہ حالات رپورٹ
تہران: اعلیٰ ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا ہے کہ ایران نے اپنے اہم ترین اور باقی ماندہ محفوظ جوہری مرکز نطنز کو ممکنہ امریکی یا اسرائیلی فضائی حملے سے بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تعمیراتی اور دفاعی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ یہ انکشاف ایک بین الاقوامی تحقیقی ادارے کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ نوٹ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق نطنز کے قریب کوہِ کولنگ گاز لا (جسے بعض ماہرین “پک ایکس ماؤنٹین” بھی کہتے ہیں) کے نیچے قائم وسیع سرنگی کمپلیکس کے داخلی راستوں کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ تصاویر میں بھاری مشینری، ڈمپر ٹرک، کنکریٹ مکسر اور دیگر تعمیراتی آلات کی موجودگی دیکھی گئی ہے۔ بعض مقامات پر سرنگوں کے اوپر اضافی مٹی اور کنکریٹ ڈال کر انہیں فضائی حملوں کے خلاف زیادہ محفوظ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ زیرِ زمین تنصیب جس پہاڑ کے نیچے قائم ہے وہ سطحِ سمندر سے تقریباً 1,600 میٹر بلند ہے، جو فردو کے جوہری مرکز سے نمایاں طور پر اونچا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بلندی اور گہرائی کی وجہ سے اس تنصیب کو نشانہ بنانا پہلے ہی انتہائی مشکل تھا، تاہم حالیہ مضبوطی کے اقدامات کے بعد اسے مزید ناقابلِ رسائی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جون 2025 میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ کشیدگی کے دوران نطنز، فردو اور اصفہان کی متعدد تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا تھا، تاہم یہ نیا سرنگی کمپلیکس اُس وقت محفوظ رہا۔ ماہرین کا خدشہ ہے کہ مستقبل میں اسے یورینیم افزودگی یا دیگر حساس سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، اگرچہ موجودہ شواہد کے مطابق یہ تنصیب تاحال مکمل طور پر فعال نہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ بھاری تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں، لیکن اندرونی آپریشنل تیاریوں کے آثار محدود ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تنصیب ابھی مکمل فعالیت کے مرحلے میں نہیں پہنچی، تاہم ایران بتدریج اس کی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔

دوسری جانب تہران مسلسل یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ تاہم خطے میں جاری کشیدگی، ممکنہ امریکی عسکری آپشنز کی خبریں اور جاری سفارتی تعطل نے نطنز جیسے مراکز کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے مہینوں میں یہ تنصیب عالمی توجہ کا مرکز بنی رہے گی، کیونکہ اگر ایران نے اسے مکمل طور پر فعال کر دیا تو یہ کسی بھی ممکنہ فضائی کارروائی کے لیے انتہائی مشکل ہدف ثابت ہو سکتی ہے۔



