
تہران / مسقط:
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی مشیر علی لاریجانی منگل کے روز ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت میں سلطنتِ عمان کے دارالحکومت مسقط کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کو خطے میں جاری سیاسی کشیدگی، سفارتی سرگرمیوں اور ممکنہ مذاکراتی عمل کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مسقط میں ایرانی وفد کی ملاقاتیں عمانی قیادت اور اعلیٰ حکام سے متوقع ہیں، جن میں علاقائی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال، ایران کے علاقائی خدشات اور ممکنہ سفارتی راستوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ عمان ماضی میں بھی ایران، امریکہ اور دیگر مغربی و علاقائی فریقوں کے درمیان رابطوں اور ثالثی میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے، اسی لیے مسقط کو ایک بار پھر خاموش سفارتکاری کا مرکز سمجھا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران ایک طرف بین الاقوامی دباؤ اور پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، تو دوسری جانب وہ خطے میں اپنے سفارتی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے اور ممکنہ کشیدگی میں کمی کے لیے متحرک نظر آتا ہے۔ لاریجانی کو ایران کی سیاسی و سکیورٹی پالیسیوں میں ایک تجربہ کار اور بااثر شخصیت تصور کیا جاتا ہے، جس سے اس دورے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
ادھر ایرانی قیادت کی جانب سے قومی طاقت کے تصور پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ رہبرِ انقلاب آیت اللہ علی خامنہ ایایرانی اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی کا مسقط کا دورہ، علاقائی سفارتکاری میں نئی سرگرمی
تہران/مسقط:
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی منگل کے روز ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت میں سلطنتِ عمان کے دارالحکومت مسقط کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں سفارتی رابطوں اور کشیدگی میں کمی کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق مسقط میں ہونے والی ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی، سیاسی پیش رفت اور ممکنہ سفارتی راستوں پر تبادلۂ خیال متوقع ہے۔ عمان ماضی میں بھی ایران اور مغربی ممالک سمیت مختلف فریقوں کے درمیان رابطے اور ثالثی میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے، جس کے باعث اس دورے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
ادھر ایرانی قیادت نے قومی طاقت کے تصور پر بھی زور دیا ہے۔ رہبرِ انقلاب کے حالیہ بیان کے مطابق کسی بھی ملک کی اصل قوت صرف میزائلوں اور جنگی طیاروں سے نہیں بلکہ قوم کے عزم، ثابت قدمی اور اجتماعی ارادے سے جڑی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک دشمن مایوس نہ ہو، قومیں دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرتی رہتی ہیں، اس لیے استقامت ہی اصل ہتھیار ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علی لاریجانی کا یہ دورہ ایران کی اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت تہران ایک طرف سفارتی محاذ پر سرگرم رہنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب داخلی سطح پر قومی یکجہتی اور مزاحمت کے بیانیے کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں مسقط مذاکرات کے نتائج خطے کی سیاست پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔



