ایرانتازہ ترین

ایران میں اسکول اور اسپورٹس ہال پر حملہ، امریکی میزائل کا دعویٰ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران کے جنوبی علاقے میں ایک مہلک حملے کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملے میں جدید امریکی ساختہ بیلسٹک میزائل استعمال کیا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا کی تحقیق اور ماہرین کے تجزیے کے مطابق یہ حملہ ایک اسپورٹس ہال اور اس کے قریب واقع ایک پرائمری اسکول کو نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں پیش آیا، جب جنوبی ایران کے شہر لامرد کے قریب ایک فوجی تنصیب کے نزدیک شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس حملے اور قریبی علاقوں میں ہونے والی دیگر کارروائیوں میں کم از کم 21 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

اسی دن ایک اور حملے میں، جو سینکڑوں میل دور واقع شہر میناب میں پیش آیا، ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا جہاں ہلاکتوں کی تعداد 175 تک بتائی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیار مختلف نوعیت کے تھے، تاہم لامرد میں استعمال ہونے والا ہتھیار جدید اور پہلے جنگ میں استعمال نہ ہونے والا تھا۔

تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستیاب ویڈیوز اور جائے وقوعہ کے شواہد کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے میں کم فاصلے تک مار کرنے والا ایک جدید بیلسٹک میزائل استعمال کیا گیا، جسے "پریسیژن اسٹرائیک میزائل” کہا جاتا ہے۔ یہ میزائل ہدف کے عین اوپر پھٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس سے نکلنے والے چھوٹے دھاتی ذرات وسیع علاقے میں تباہی پھیلاتے ہیں۔

ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ میزائل زمین سے کچھ فاصلے پر فضا میں دھماکے کے ساتھ پھٹتا ہے، جس کے بعد اردگرد کے علاقے میں شدید نقصان ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ کار عام طور پر زیادہ سے زیادہ جانی نقصان اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ جدید ہتھیاروں کے استعمال اور شہری علاقوں پر حملوں کے حوالے سے عالمی سطح پر ایک اہم اور تشویشناک پیش رفت ہو سکتی ہے۔ اس طرح کے واقعات بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں، خاص طور پر جب ہدف میں شہری تنصیبات شامل ہوں۔

ادھر عالمی برادری کی جانب سے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ آزادانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق کو واضح کیا جائے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ممکن ہو سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button