ایرانتازہ ترین

امریکا کا ایران میں ایٹم بم چرانے کا منصوبہ ناکام ، بڑی تباہی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران میں حالیہ امریکی فوجی کارروائی کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات نے اس آپریشن کی نوعیت پر کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں ابتدائی طور پر اسے ایک ریسکیو مشن قرار دیا گیا تھا، تاہم اب بعض تجزیہ کار اسے اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی ایف-15 لڑاکا طیارہ صوبہ کہگیلویہ و بویر احمد میں تباہ ہوا، جہاں سے پائلٹ یا عملے کے رکن کو نکالنے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ لیکن حیران کن طور پر امریکی فوجی سرگرمیوں اور جھڑپوں کی اطلاعات ایران کے وسطی صوبے اصفہان سے سامنے آئیں، جو ابتدائی حادثے کی جگہ سے تقریباً 200 کلومیٹر دور ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے فاصلے پر آپریشن کا پھیلاؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشن محض ایک اہلکار کی بازیابی تک محدود نہیں ہو سکتا تھا۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ علاقہ ایران کے حساس جوہری مواد، خصوصاً افزودہ یورینیم کے ممکنہ ذخائر کے قریب واقع ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے اس آپریشن کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں درجنوں امریکی طیارے، بشمول بھاری بھرکم سی-130 طیارے اور دیگر فضائی اثاثے شامل تھے، جو ایک محدود ریسکیو مشن کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی فوجی تعیناتی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس مشن کے دوران شدید جھڑپیں ہوئیں اور امریکی فورسز کو نقصان بھی اٹھانا پڑا، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق کئی طیارے بھی تباہ ہوئے۔ تاہم ان اعداد و شمار کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔

دوسری جانب امریکی حکام نے اب تک اس آپریشن کو ایک پیچیدہ مگر کامیاب ریسکیو مشن قرار دیا ہے، جس میں خطرناک حالات کے باوجود اہلکار کو محفوظ نکال لیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید جنگی ماحول میں معلوماتی جنگ بھی اتنی ہی اہم ہو چکی ہے جتنی زمینی یا فضائی کارروائیاں، اور ایسے میں مختلف دعوؤں اور بیانیوں کے درمیان حقیقت تک پہنچنا ایک چیلنج بن جاتا ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف خطے میں جاری کشیدگی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ بڑے فوجی آپریشنز کے پس منظر میں کئی پرتیں ہو سکتی ہیں، جن کی مکمل تفصیلات وقت کے ساتھ ہی سامنے آتی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button