
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے امریکی عوام کی رائے منقسم نظر آ رہی ہے۔ حالیہ سرویز کے مطابق زیادہ تر امریکی شہری ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی حمایت کے بجائے اس کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ کئی افراد اس جنگ کے ممکنہ معاشی اور سیکیورٹی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
مختلف امریکی اداروں کی جانب سے کیے گئے سرویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً 53 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے مخالف ہیں، جبکہ تقریباً 40 فیصد اس کی حمایت کرتے ہیں۔ باقی افراد اس معاملے پر واضح رائے نہیں رکھتے۔
سیاسی جماعتوں کے اعتبار سے بھی رائے میں واضح فرق دیکھا گیا ہے۔ ریپبلکن ووٹرز کی بڑی تعداد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کی حمایت کرتی ہے، تاہم ان میں سے بھی بہت سے لوگ ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے خیال سے محتاط نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس اور آزاد ووٹرز کی بڑی تعداد جنگ کی مخالفت کر رہی ہے۔
سروے کے مطابق بہت سے امریکی شہریوں کو خدشہ ہے کہ یہ جنگ امریکہ کو مزید غیر محفوظ بنا سکتی ہے۔ تقریباً آدھے ووٹرز کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف حملوں سے امریکہ کی سلامتی کمزور ہو سکتی ہے، جبکہ صرف ایک تہائی افراد کا ماننا ہے کہ اس سے ملک زیادہ محفوظ ہوگا۔

معاشی پہلو بھی امریکی عوام کے لیے بڑی تشویش بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق تقریباً 70 فیصد ووٹرز کو خدشہ ہے کہ ایران جنگ کے باعث تیل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث امریکی معیشت اور عام صارفین پر اثرات کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
اسی طرح بیشتر امریکی شہریوں کا خیال ہے کہ حکومت نے جنگ کے اسباب اور اہداف کے بارے میں واضح وضاحت فراہم نہیں کی۔ کئی سرویز میں اکثریت نے کہا کہ ایران فوری طور پر امریکہ کے لیے براہِ راست فوجی خطرہ نہیں تھا، اگرچہ بہت سے لوگ ایران کے جوہری پروگرام کو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بھی سمجھتے ہیں۔
ایک اور اہم نکتہ یہ سامنے آیا ہے کہ امریکی عوام کی بڑی اکثریت ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی سخت مخالفت کرتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق تقریباً 75 فیصد ووٹرز ایران میں امریکی فوج تعینات کرنے کے خلاف ہیں، جبکہ صرف تقریباً 20 فیصد اس کی حمایت کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ طویل ہوتی ہے یا اس کے معاشی اثرات بڑھتے ہیں تو یہ معاملہ امریکی داخلی سیاست میں بھی ایک اہم موضوع بن سکتا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں طویل جنگوں سے دور رہنے اور “امریکہ فرسٹ” پالیسی پر زور دیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں جنگ کی صورتحال، توانائی کی قیمتوں اور ممکنہ امریکی فوجی ہلاکتوں جیسے عوامل امریکی عوامی رائے کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔



