
(تازہ حالات رپورٹ ) — امریکہ اور ایران کے مابین جاری شدید کشیدگی اور خطے کے سلگتے حالات کے سائے میں، امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ‘سی آئی اے’ (CIA) نے ایک انتہائی غیر معمولی اور حیران کن قدم اٹھایا ہے۔ امریکی ایجنسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (X) پر براہ راست فارسی زبان میں ایک پیغام جاری کیا ہے، جس میں ایرانی شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ محفوظ اور خفیہ ورچوئل ذرائع سے سی آئی اے کے ساتھ رابطہ قائم کریں۔
"ہم آپ کی آواز سن سکتے ہیں” — سی آئی اے کا خصوصی پیغام سی آئی اے کے آفیشل اکاؤنٹ سے منگل کے روز جاری ہونے والے اس پیغام اور ایک مختصر ویڈیو میں ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے:
"ہیلو! سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (CIA) آپ کی آواز سن سکتی ہے اور آپ کی مدد کرنا چاہتی ہے۔ ذیل میں ہم سے محفوظ طریقے سے ورچوئل رابطہ کرنے کے لیے ضروری رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔”
اس مہم کا بنیادی مقصد ممکنہ مخبروں (Informants) کو تلاش کرنا ہے۔ ایجنسی نے ایرانی شہریوں سے پوچھا ہے کہ ان کے پاس کون سی مخصوص مہارتیں ہیں، ان کی کس قسم کی معلومات تک رسائی ہے، اور وہ امریکی انٹیلی جنس کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔ اس جاری کردہ ویڈیو میں انکرپٹڈ (Encrypted) اور محفوظ مواصلاتی طریقوں کی مکمل تفصیل بھی بتائی گئی ہے تاکہ رابطہ کرنے والوں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رہے۔

اس سنسنی خیز مہم کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ دفاعی اور جیو پولیٹیکل ماہرین کے مطابق، سی آئی اے کے اس کھلے اور براہ راست رابطے کے چند بڑے اور واضح مقاصد ہیں:
- جوہری اور عسکری معلومات: ایران کے انتہائی حساس جوہری پروگرام اور تیزی سے بڑھتی ہوئی ملٹری اور میزائل صلاحیتوں کے بارے میں اندرونی معلومات کا حصول۔
- اندرونی حالات کا فائدہ اٹھانا: ایران کے اندر جاری معاشی و سیاسی بے چینی اور حالیہ عوامی مظاہروں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اندرونی معلومات تک رسائی حاصل کرنا۔
- مخبروں کو تکنیکی تحفظ فراہم کرنا: جو لوگ معلومات دینا چاہتے ہیں لیکن پکڑے جانے کے خوف سے خاموش ہیں، انہیں ڈارک ویب اور انکرپٹڈ نیٹ ورکس کے ذریعے ایک محفوظ اور خفیہ راستہ فراہم کرنا۔

دنیا کی خفیہ ایجنسیوں کا نیا ‘ڈیجیٹل ٹرینڈ’ ماضی میں جاسوسی کے لیے انتہائی روایتی اور خاموش طریقے استعمال کیے جاتے تھے، لیکن حالیہ برسوں میں دنیا کی بڑی انٹیلی جنس ایجنسیوں (جیسے CIA، برطانوی MI6، اور اسرائیلی موساد) نے اوپن پلیٹ فارمز پر اشتہارات جیسی مہمات چلانا شروع کر دی ہیں۔
- برطانوی ایجنسی MI6 کا قدم: سال 2025 میں، برطانوی انٹیلی جنس کے سربراہ نے ‘ایکس’ پر "سائلنٹ کوریئر” (Silent Courier) کے نام سے ڈارک ویب کا ایک مخصوص پورٹل متعارف کرایا تھا، جو خاص طور پر روس اور دیگر خطرناک ریاستوں کے شہریوں سے محفوظ رابطے کے لیے بنایا گیا تھا۔
- سی آئی اے کی پچھلی مہمات: اس سے قبل اکتوبر 2024 میں بھی، سی آئی اے نے مینڈارن (چینی)، کوریائی اور فارسی زبانوں میں انفوگرافکس شائع کیے تھے جن میں ڈارک ویب (Onion sites) اور پبلک سائٹس کے ذریعے ایجنسی سے رابطہ کرنے کے خفیہ طریقے بتائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی ‘موساد’ بھی ماضی میں ایسی مہمات چلا چکی ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ جدید دور کی انٹیلی جنس اور جاسوسی کی جنگ اب روایتی میدانوں سے نکل کر براہ راست عوام کے اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا تک پہنچ چکی ہے۔



