
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے کو جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف سنگین اقدام قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرایا ہے۔ یہ بیان انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں دیا، جہاں ایران نے اس معاملے پر فوری توجہ دینے کی درخواست کی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق اس حملے میں 175 سے زائد طلبہ اور اساتذہ جاں بحق ہوئے، جسے انہوں نے "امریکی-صہیونی جارحیت” کی بدترین مثال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ نہ صرف ایک تعلیمی ادارے بلکہ انسانی اقدار پر حملہ ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ اسپتالوں، ایمبولینسز اور دیگر شہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
عراقچی نے عالمی برادری کی خاموشی پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے واقعات پر ردعمل نہ دیا گیا تو یہ مزید عدم استحکام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سبب بنے گا۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کی مذمت کرے اور ذمہ داروں کو جوابدہ بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل سے ایران پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ تہران سے بھی اپنے پڑوسی ممالک پر حملے بند کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے میناب اسکول حملے کی شفاف اور فوری تحقیقات پر زور دیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر ایک امریکی میزائل کے ذریعے کیا گیا، جس میں ہدف کی شناخت میں غلطی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور ویڈیوز نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسکول کو ایک درست نشانے والے حملے میں نقصان پہنچا، جو قریبی فوجی تنصیب پر ہونے والی کارروائی کے دوران ہوا۔
ماہرین کے مطابق اس واقعے نے ایران جنگ میں ایک نیا اور حساس موڑ پیدا کر دیا ہے، جہاں شہری ہلاکتوں نے عالمی سطح پر تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ کی گئیں تو یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور سفارتی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں یہ واقعہ نہ صرف جنگی حکمت عملی بلکہ انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے حوالے سے بھی ایک بڑا امتحان بن چکا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں عالمی ردعمل اہم کردار ادا کرے گا۔



