ایرانتازہ ترین

روس کی امریکہ کو کھلی دھمکی: ایران پر حملہ کیا تو انجام برا ہوگا!

ماسکو —(تازہ حالات رپورٹ ) روسی وزیر خارجہ سرگئی لافروف نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران پر کوئی نیا فوجی حملہ کرتا ہے تو اس کے شدید نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ناگزیر طور پر بڑھ سکتی ہے۔

لافروف نے سعودی ٹی وی العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں زور دیا کہ فوجی کارروائی سے حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں اور تشدد کے امکانات بڑھ جائیں گے، خاص طور پر جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔

کیا کہا لافروف نے؟

🔹 لافروف نے کہا کہ نتائج “اچھے نہیں ہوں گے” کیونکہ پہلے بھی ایران کے نیوکلیئر مقامات پر حملے ہوئے ہیں جن سے ایٹمی حادثے کا خطرہ محسوس کیا گیا۔
🔹 انہوں نے عرب ممالک اور خلیجی ریاستوں کی ردعمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مزید کشیدگی نہیں چاہتا اور سمجھتا ہے کہ یہ آگ کے ساتھ کھیلنے جیسا ہے۔
🔹 لافروف نے مزید کہا کہ مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا بہتر ہے، جس سے ایران کو پر امن ایٹمی پروگرام چلانے کا موقع ملے۔

پسِ منظر

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی دباؤ میں اضافہ کیا ہے، مشرقِ وسطیٰ میں اپنی افواج اور بحری طاقت مضبوط کی ہے، اور ممکنہ حملے کے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
اسی دوران جنیوا میں ایران اور امریکہ کے نمائندے بالواسطہ مذاکرات بھی کر رہے ہیں تاکہ ایک بڑے بحران کو روکنے کی کوشش کی جا سکے۔

عالمی تشویش

لافروف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ علاقائی تعلقات اور سفارتی پیش رفت — خاص طور پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان معمول کی بات چیت — خطرے میں پڑ سکتی ہے اگر کشیدگی مزید بڑھے۔

کیا مستقبل میں جنگ کا خدشہ برقرار؟

ماہرین کے مطابق روسی بیان اس جانب اشارہ ہے کہ اگر فوجی راستے کا انتخاب کیا گیا تو صرف ایران ہی نہیں بلکہ پورا خطہ متاثر ہو سکتا ہے، جس کی عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور سیاسی استحکام پر گہری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

خلاصہ:
روس نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکا کی طرف سے ایران پر نیا حملہ غیر متوقع خطرات اور سنگین نتائج لا سکتا ہے، اسی لیے لافروف نے مذاکرات اور پرامن مذاکرات پر زور دیا ہے تاکہ جنگ کے شدید نتائج سے بچا جا سکے

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button