
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران عالمی توانائی کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ برطانوی بحری سیکیورٹی ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق اس اہم سمندری راستے میں تین کارگو جہازوں کو نامعلوم میزائل یا پروجیکٹائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ادارے کے مطابق پہلا حملہ عمان کے ساحل سے تقریباً 11 سمندری میل شمال میں پیش آیا جہاں ایک جہاز کسی پروجیکٹائل کے لگنے سے آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ عملے کو فوری طور پر جہاز خالی کرنا پڑا تاہم کسی جانی نقصان کی فوری اطلاع سامنے نہیں آئی۔
دوسرا حملہ دبئی سے تقریباً 50 میل شمال مغرب میں ایک بلک کیریئر جہاز پر کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس جہاز کا عملہ محفوظ رہا، تاہم جہاز کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ اسی علاقے کے قریب ایک تیسرا تجارتی جہاز بھی حملے میں متاثر ہوا۔

حکام کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان حملوں کے پیچھے کون ہے، تاہم ایران نے اس اہم سمندری راستے پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو بھی جہاز اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس علاقے میں حملوں کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کی بحریہ کے بعض جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن میں بارودی سرنگیں بچھانے والے جہاز شامل ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کے خلاف جنگ میں اب تک کی سب سے شدید کارروائیوں کا حصہ ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کا مقصد عالمی معیشت پر دباؤ ڈالنا اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کرنا ہو سکتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔



