
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )عراقی حکام کے مطابق جمعرات کی صبح عراق کی سمندری حدود میں دو غیر ملکی آئل ٹینکروں پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس واقعے میں ایک عملے کے رکن کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ چند افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
عراقی جنرل کمپنی فار پورٹس کے ڈائریکٹر جنرل فرحان الفرطوسی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے بڑے آئل ٹینکر کے عملے کا ایک غیر ملکی رکن ہلاک ہو گیا ہے۔ تاہم حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں دھماکے یا حملے کی نوعیت کے بارے میں مکمل معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ بصرہ کے فاؤ بندرگاہ سے تقریباً 22 ناٹیکل میل دور پیش آیا۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے اشارہ ملتا ہے کہ ممکنہ طور پر بارودی مواد سے لدی کشتیوں کے ٹکرانے سے دونوں جہازوں میں آگ لگی، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔

ریسکیو حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سمندر میں پھنسے عملے کو بچانے کے لیے امدادی آپریشن شروع کیا۔ عراقی پورٹس اتھارٹی کے مطابق اب تک 38 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے، جن میں زیادہ تر غیر ملکی ملاح شامل ہیں۔
عراقی سیکیورٹی حکام نے اس حملے کو عراق کی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ امدادی کارروائیوں کے لیے چھ ریسکیو کشتیاں فوری طور پر متاثرہ مقام پر بھیجی گئیں۔
واقعے کے بعد عراقی حکام نے احتیاطی اقدام کے طور پر تیل کی بندرگاہوں کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں، جبکہ تجارتی بندرگاہوں پر معمول کے مطابق کام جاری رکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایسے واقعات جاری رہے تو خلیج کے سمندری راستوں اور توانائی کی ترسیل پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔



