امریکاتازہ ترین

سعودی عرب میں امریکی اڈے پر حملہ، 12 امریکی فوجی زخمی، 2 کی حالت تشویشناک

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

سعودی عرب میں واقع ایک اہم امریکی فضائی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملے میں کم از کم 12 امریکی فوجی زخمی ہو گئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ حملہ پرنس سلطان ایئر بیس کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جو خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔

غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق یہ مشترکہ میزائل اور ڈرون حملہ حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی فضائی دفاع کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے مربوط حملے، جن میں بیک وقت ڈرونز اور بیلسٹک میزائل استعمال کیے جائیں، دفاعی نظام کو الجھا سکتے ہیں اور اس کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حملے میں کم از کم دو KC-135 ایئر ریفیولنگ طیاروں کو بھی نقصان پہنچا، جو فضائی آپریشنز کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ اگر اس نقصان کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ امریکی فضائی صلاحیتوں پر ایک نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا ایک طرف سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی بات کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو مزید مضبوط بھی کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں مزید جنگی بحری جہاز اور ہزاروں فوجی مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے گئے ہیں۔

ادھر ایران نے بھی حالیہ ہفتوں کے دوران خطے میں مختلف امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جسے وہ اپنے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا ردعمل قرار دیتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا وسیع استعمال کر کے امریکی دفاعی نظام پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حملے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جدید فضائی دفاعی نظام کے باوجود مکمل تحفظ ممکن نہیں، خاص طور پر جب حملے مختلف سمتوں اور مختلف ہتھیاروں کے ذریعے بیک وقت کیے جائیں۔ اس کے نتیجے میں خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب عالمی منڈیوں پر بھی اس کشیدگی کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، خصوصاً تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ سعودی عرب جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک میں سکیورٹی کی صورتحال عالمی معیشت کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔

تاحال اس حملے کی مکمل تفصیلات اور ذمہ داروں کے حوالے سے واضح تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ بڑے تصادم کے خطرے کی ایک اور علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button