ایرانتازہ ترین

تہران میں یونیورسٹی پر حملہ، ایران کا سخت ردعمل دینے کا اعلان

ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک یونیورسٹی سمیت متعدد اہم مقامات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق جمعہ کی صبح تہران کی معروف یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے قریب حملہ ہوا، جس سے عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

ایرانی خبر رساں اداروں اور مقامی ذرائع کے مطابق حالیہ حملوں میں نہ صرف تعلیمی اداروں بلکہ ملک بھر میں توانائی، صنعتی اور جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹس کے مطابق اصفہان میں اسٹیل ملز اور پاور پلانٹس، اراک کا جوہری ری ایکٹر اور ملک کے وسط میں واقع یلو کیک (جوہری مواد) بنانے والی تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے۔ اس کے علاوہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب بھی ایک میزائل گرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے مختصر بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس کی افواج تہران میں ایرانی اہداف کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ایران کی میزائل صلاحیتوں اور دفاعی صنعتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایرانی حکام نے ان حملوں کو ملک کی بنیادی اور سویلین تنصیبات پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے کمانڈر مجید موسوی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کا اگلا ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور وسیع ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ "اب معاملہ صرف بدلے کا نہیں بلکہ اس سے آگے کا ہوگا۔”

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور اسرائیل سے منسلک صنعتی اداروں میں کام کرنے والے افراد اپنی حفاظت کے لیے فوری طور پر وہاں سے نکل جائیں، کیونکہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کے مختلف شہروں میں بیک وقت حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کارروائی ایک وسیع اور مربوط فوجی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایران کی دفاعی اور صنعتی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ تعلیمی اداروں اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا سکتا ہے، جس سے ایک بڑے علاقائی تصادم کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ کشیدگی محدود رہے گی یا ایک وسیع جنگ کی شکل اختیار کر لے گی، کیونکہ دونوں جانب سے سخت بیانات اور جوابی کارروائیوں کے اشارے سامنے آ رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button