امریکاتازہ ترین

ٹرمپ کا بڑا دعویٰ! کیا ایرانی میزائل واقعی امریکہ تک پہنچ گئے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حالیہ سنسنی خیز بیان نے عالمی سطح پر ایک نئی اور گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے کہ ایران تیزی سے ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو "جلد ہی” امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔ لیکن کیا دفاعی اور تکنیکی لحاظ سے یہ خطرہ واقعی اتنا ہی قریب ہے؟ اور اس حوالے سے امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اصل رپورٹس کیا کہتی ہیں؟

یہاں اس پورے معاملے کا ایک تفصیلی اور حقائق پر مبنی جائزہ پیش کیا گیا ہے:

امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (DIA) کی چشم کشا رپورٹ امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کی ایک حالیہ اور اہم رپورٹ کے مطابق، ایران کا تیزی سے ابھرتا ہوا ‘خلائی لانچ پروگرام’ مستقبل میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں (ICBMs) کی تیاری کے لیے ایک مضبوط اور ٹھوس بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر تہران نے باقاعدہ طور پر اس منصوبے پر کام کرنے کا سیاسی اور مالی فیصلہ کر لیا، تو سال 2035 تک ایران ایسی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے جس کے تحت اس کے پاس لگ بھگ 60 ایسے بین البراعظمی میزائل ہوں گے جو امریکہ کے مختلف حصوں کو باآسانی ہدف بنا سکیں گے۔ تاہم، رپورٹ واضح کرتی ہے کہ یہ پیش رفت ایک "سیاسی اور سرمایہ کاری کے فیصلے” سے مشروط ہے، جس کا ایران نے تاحال کوئی عوامی یا باقاعدہ اعلان نہیں کیا۔

پاسدارانِ انقلاب کا خلائی پروگرام اور امریکی شکوک و شبہات امریکی نشریاتی ادارے ‘این بی سی نیوز’ (NBC News) سے گفتگو کرتے ہوئے دفاعی ماہرین نے بتایا کہ ایران کے خلائی پروگراموں—جن میں سے کئی براہِ راست پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی نگرانی میں چل رہے ہیں—کو محض خلا تک محدود نہیں سمجھا جا سکتا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خلا میں سیٹلائٹ بھیجنے کے لیے استعمال ہونے والی یہ تبدیل شدہ ملٹری ٹیکنالوجی دراصل طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری کی طرف ایک بڑا تکنیکی قدم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلائی عزائم مغربی دنیا میں شدید شکوک و شبہات کو جنم دے رہے ہیں۔

ایران کی موجودہ میزائل صلاحیت کے زمینی حقائق ان تمام خدشات کے باوجود، زمینی حقائق اور انٹیلی جنس رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ فی الحال ایسے کوئی پختہ شواہد موجود نہیں جو یہ ثابت کریں کہ ایران کے پاس اس وقت امریکہ تک پہنچنے والے میزائل موجود ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ایران کی میزائل رینج اور صلاحیت زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے کچھ حصوں کو نشانہ بنانے تک ہی محدود ہے۔

مارکو روبیو کی خفیہ بریفنگ اور ٹرمپ کا بیان (پس منظر) یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ بیان امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے کانگریس کے سرکردہ رہنماؤں کو ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں پر دی گئی ایک انتہائی خفیہ بریفنگ کے بعد سامنے آیا تھا۔ تاہم، باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بریفنگ میں کوئی ایسی نئی معلومات شیئر نہیں کی گئیں جو ایران کے میزائل پروگرام کی پچھلی انٹیلی جنس ٹائم لائنز (یعنی 2035 تک کی مدت) میں کسی فوری یا غیر معمولی تبدیلی کا اشارہ دیتی ہوں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے خیال میں، ٹرمپ کا "جلد ہی” کا لفظ استعمال کرنا دراصل موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران تہران پر سفارتی اور نفسیاتی دباؤ بڑھانے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button