
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران امریکی فوج کو نمایاں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے تصدیق کی ہے کہ اب تک اس جنگ میں تقریباً 140 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ اس سے قبل سات امریکی اہلکار ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
پینٹاگون کے مطابق زخمی ہونے والے فوجیوں میں سے آٹھ اہلکار شدید زخمی ہیں، جبکہ 100 سے زائد فوجی ابتدائی علاج کے بعد دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی تعداد میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں لڑائی اب بھی شدید نوعیت اختیار کیے ہوئے ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں حملوں کی شدت مزید بڑھائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں لڑاکا طیاروں، بمبار طیاروں اور انٹیلی جنس نظام کو پہلے سے زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔

ہیگستھ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی تعداد نسبتاً کم رہی ہے، جسے امریکی حکام اپنی کارروائیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ دنوں میں مزید شدید حملے دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
دوسری جانب جنگ کے مجموعی انسانی نقصانات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ مختلف حکام کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد ایران میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ لبنان، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات میں بھی متعدد ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ اسی رفتار سے جاری رہی تو نہ صرف خطے میں انسانی بحران گہرا ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں، سفارتی تعلقات اور علاقائی سلامتی پر بھی اس کے اثرات مزید واضح ہو سکتے ہیں۔



