امریکاتازہ ترین

ٹرمپ کی صحافیوں کو غداری کے مقدمات کی دھمکی، امریکی میڈیا میں نئی بحث

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق جنگی صورتحال کی رپورٹنگ پر بعض صحافیوں اور میڈیا اداروں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی نے جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلائیں تو اس کے خلاف غداری جیسے سنگین الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے امریکا میں اظہارِ رائے کی آزادی اور میڈیا کے کردار کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کی شام اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پیغام میں دعویٰ کیا کہ ایران میڈیا کو گمراہ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ویڈیوز اور غلط معلومات پھیلا رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض میڈیا اداروں نے ان مواد کو بغیر تصدیق کے نشر کیا جس سے عوام میں غلط تاثر پیدا ہوا۔

ٹرمپ نے خاص طور پر ایک ویڈیو کا حوالہ دیا جس میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو آگ کی لپیٹ میں دکھایا گیا تھا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تھی اور حقیقت میں نہ تو جہاز کو نشانہ بنایا گیا اور نہ ہی اسے کوئی نقصان پہنچا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق مذکورہ ویڈیو واقعی مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تھی اور زیادہ تر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی، تاہم اس بات کے واضح شواہد سامنے نہیں آئے کہ بڑے میڈیا اداروں نے اسے بطور خبر نشر کیا ہو۔

صدر ٹرمپ نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس نے ایک خبر میں دعویٰ کیا کہ ایران کے میزائل حملے سے سعودی عرب میں موجود پانچ امریکی ری فیولنگ طیارے شدید متاثر ہوئے۔ ٹرمپ کے مطابق حقیقت میں زیادہ تر طیارے سروس میں موجود ہیں اور صرف ایک طیارے کو معمولی نقصان پہنچا۔

وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دو امریکی حکام کے حوالے سے کہا تھا کہ حملے میں پانچ طیارے متاثر ہوئے تھے تاہم وہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے اور ان کی مرمت جاری ہے۔

اپنے بیان میں ٹرمپ نے فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (FCC) کے چیئرمین برینڈن کار کی بھی تعریف کی اور کہا کہ وہ بعض نشریاتی اداروں کے لائسنس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ برینڈن کار اس سے قبل بھی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر کوئی براڈکاسٹر غلط معلومات یا گمراہ کن خبریں نشر کرتا ہے تو اس کے لائسنس کی تجدید متاثر ہو سکتی ہے۔

امریکا میں آئینی ماہرین اور صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں معلومات کی درستگی انتہائی اہم ہوتی ہے، تاہم صحافیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی دھمکی اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق سوالات بھی پیدا کرتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اطلاعاتی جنگ بھی شدت اختیار کر رہی ہے، جہاں سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت اور تیز رفتار خبر رسانی کے باعث غلط معلومات کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی میڈیا میں فیکٹ چیکنگ اور تصدیق شدہ معلومات کی اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button