اسرائیلتازہ ترین

افریقہ میں قدم جمانے کی کوشش! اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ اچانک ایتھوپیا پہنچ گئے

(تازہ حالات رپورٹ )

اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ دو روزہ سرکاری دورے پر ایتھوپیا پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، معاشی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے پر بات چیت کریں گے۔ ایتھوپین نیوز ایجنسی کے مطابق صدر ہرزوگ بدھ کی صبح ادیس ابابا پہنچے۔

اپنے سوشل میڈیا بیان میں ہرزوگ نے کہا کہ وہ ایتھوپیا کے ساتھ دوستی اور شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم ملاقاتوں کے منتظر ہیں۔ ان کے دورے کے دوران ایتھوپیا کے صدر تائے اتسکے سیلاسی اور وزیرِاعظم ابی احمد علی سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مقامی یہودی برادری کے رہنماؤں سے بھی ملیں گے۔

تاریخی پس منظر

اسرائیل اور ایتھوپیا کے تعلقات کی تاریخ طویل اور پیچیدہ رہی ہے۔ روایات کے مطابق ملکہ سبا اور حضرت سلیمان کے تاریخی روابط کا ذکر بھی دونوں ملکوں کے تعلقات کے تناظر میں کیا جاتا ہے۔ جدید دور میں شہنشاہ ہیلے سلاسی کے دور سے دونوں ممالک کے درمیان روابط قائم رہے، تاہم 1973 کی عرب۔اسرائیل جنگ کے بعد سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے۔ مکمل سفارتی تعلقات 1992 میں بحال ہوئے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں سفارت خانے قائم کیے۔

افریقہ میں اثر و رسوخ کی کوشش

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیل افریقہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں افریقی ممالک میں اسرائیل کے حق اور مخالفت میں مختلف سیاسی رجحانات دیکھے گئے ہیں، خاص طور پر فلسطین کے مسئلے پر۔ ادیس ابابا حال ہی میں ایک اہم افریقی سربراہی اجلاس کی میزبانی بھی کر چکا ہے، جس سے ایتھوپیا کی سفارتی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

فروری 2025 میں اسرائیل اور ایتھوپیا کے درمیان توانائی، پانی اور جدت کے شعبوں میں تعاون کا ایک معاہدہ بھی طے پایا تھا، جس کے تحت اسرائیلی کمپنیاں ایتھوپیا کے آبی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبوں میں حصہ لے رہی ہیں۔

خطے کی بدلتی صورتحال

صدر ہرزوگ کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ہارن آف افریقہ خطے میں سفارتی صف بندیاں تیزی سے بدل رہی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں صومالی لینڈ کی حیثیت اور علاقائی طاقتوں کی دلچسپی نے بھی سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی کوشش ہے کہ وہ افریقہ میں اپنی سفارتی موجودگی کو مستحکم کرے، جبکہ ایتھوپیا بھی اقتصادی ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے مختلف شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنا چاہتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button