
تہران/پیرس(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): ایران نے اتوار کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کی تصدیق کر دی۔ سرکاری ٹیلی وژن پر سیاہ پٹی کے ساتھ ان کے انتقال کا اعلان کیا گیا، تاہم موت کی وجوہات کی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب تہران میں ان کی رہائش گاہ کو حالیہ فضائی حملوں میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں۔
86 سالہ خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر تھے اور تقریباً چار دہائیوں تک ملک کی سیاسی و مذہبی قیادت ان کے ہاتھ میں رہی۔ وہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے اہم ستونوں میں شمار ہوتے تھے اور آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد مجلس خبرگان نے انہیں ملک کی اعلیٰ ترین اتھارٹی منتخب کیا تھا۔
سخت فیصلے اور اندرونی بحران
اپنے دور اقتدار میں خامنہ ای نے کئی بڑے داخلی بحرانوں کا سامنا کیا، جن میں 1999 کی طلبہ تحریک، 2009 کے صدارتی انتخابات کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج، 2019 کے مظاہرے اور 2022–23 کی “عورت، زندگی، آزادی” تحریک شامل ہیں۔ ان تمام ادوار میں حکومت نے سخت کارروائیاں کیں اور اپوزیشن کو محدود کیا۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق خامنہ ای نے طاقت کے ڈھانچے کو مضبوط رکھنے کے لیے سیکیورٹی اداروں، خصوصاً پاسدارانِ انقلاب (IRGC)، کو غیر معمولی اختیار دیا۔ یہی ادارہ داخلی سیاست اور خارجہ پالیسی میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا۔
نظریاتی مؤقف اور خارجہ پالیسی
خامنہ ای نے اپنے دور میں امریکہ کو “بڑا شیطان” قرار دینے کی پالیسی برقرار رکھی اور اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کیا۔ انہوں نے خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو وسعت دینے کے لیے عراق، شام، لبنان اور یمن میں اتحادی گروہوں کی حمایت کی، جسے ایران “محورِ مزاحمت” قرار دیتا ہے۔
ان کے دور میں ایران نے شام میں بشار الاسد کی حمایت کے لیے فوجی مشیر اور وسائل بھیجے، جبکہ حزب اللہ اور دیگر گروہوں کی پشت پناہی جاری رکھی۔

قیادت تک رسائی اور سیکیورٹی
خامنہ ای انتہائی سخت سیکیورٹی حصار میں رہتے تھے اور ان کی عوامی تقاریر یا ملاقاتیں عموماً محدود اور پہلے سے طے شدہ ہوتی تھیں۔ 1981 میں وہ ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے تھے جس کے نتیجے میں ان کا ایک بازو متاثر ہوا۔
سپریم لیڈر بننے کے بعد انہوں نے بیرون ملک کوئی دورہ نہیں کیا۔ ان کا آخری غیر ملکی دورہ 1989 میں بطور صدر شمالی کوریا کا تھا۔
جانشینی کا مرحلہ
خامنہ ای کے انتقال کے بعد سب سے اہم سوال ان کے جانشین کا ہے۔ بعض تجزیہ کار ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا نام لیتے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک کوئی سخت گیر مذہبی یا سیاسی رہنما اس عہدے پر فائز ہو سکتا ہے۔ اس عمل میں مجلس خبرگان اور پاسدارانِ انقلاب کا کردار فیصلہ کن سمجھا جا رہا ہے۔
ایک طویل باب کا اختتام
چار دہائیوں تک ایران کی سیاست، مذہب اور سیکیورٹی پالیسی پر اثر انداز رہنے والے خامنہ ای کی وفات ملک کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دن ایران کی داخلی استحکام، علاقائی پالیسی اور عالمی تعلقات کے لیے نہایت اہم ہوں گے۔



