تازہ ترینعالمی خبریں

بنگلہ دیشی انتخابات: سیاسی طاقت کا ٹکراؤ اور نئی نسل کی فیصلہ کن شمولیت2026

ڈھاکا:
بنگلہ دیش میں 12 فروری 2026 کو ہونے والے عام انتخابات کو ملک کی 55 سالہ تاریخ کے سب سے اہم اور فیصلہ کن انتخابات قرار دیا جا رہا ہے۔ ان انتخابات میں تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے، جبکہ ملک پہلی بار ایک ایسے سیاسی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد نئی قیادت کے انتخاب کا موقع میسر آیا ہے۔

شیخ حسینہ، جو 2009 سے مسلسل اقتدار میں تھیں، اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں۔ اس تحریک کے دوران سیکیورٹی کریک ڈاؤن میں سینکڑوں افراد کی ہلاکتوں کے الزامات لگے، جس کے بعد ان کی جماعت عوامی لیگ کی سیاسی حیثیت کمزور ہو گئی۔ الیکشن کمیشن نے عوامی لیگ کی رجسٹریشن معطل کر دی ہے، جس کے باعث یہ جماعت 2026 کے انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی۔

اس وقت بنگلہ دیش میں نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت قائم ہے، جس کا بنیادی مقصد شفاف انتخابات کا انعقاد اور سیاسی استحکام کی بحالی ہے۔

نوجوان ووٹرز فیصلہ کن حیثیت میں
بنگلہ دیش کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اندازوں کے مطابق 18 سے 37 سال کی عمر کے ووٹرز کل ووٹرز کا تقریباً 44 فیصد ہیں، جبکہ لگ بھگ 50 لاکھ افراد پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہی نوجوان طبقہ اس انتخاب کا رخ متعین کر سکتا ہے۔

اہم سیاسی جماعتیں اور مقابلہ
ان انتخابات میں 59 رجسٹرڈ جماعتوں میں سے 51 عملی طور پر حصہ لے رہی ہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً دو ہزار امیدوار میدان میں ہیں۔
اہم جماعتوں میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP)، جماعتِ اسلامی (جو دیگر اسلامی جماعتوں کے اتحاد کے ساتھ میدان میں ہے)، نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) — جو 2024 کی طلبہ تحریک سے ابھری — اور جتیہ پارٹی کے مختلف دھڑے شامل ہیں۔

معاشی اور سماجی پس منظر
بنگلہ دیش دنیا کا آٹھواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، جس کی آبادی 17 کروڑ سے زائد ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں معیشت تیزی سے بڑھی، تاہم حالیہ برسوں میں شرحِ نمو میں کمی دیکھی گئی ہے۔ فی کس آمدنی تقریباً دو ہزار ڈالر ہے، جبکہ بے روزگاری، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام ووٹرز کے اہم مسائل بن چکے ہیں۔

سیاسی تاریخ کا نازک موڑ
بنگلہ دیش کی سیاست ماضی میں فوجی بغاوتوں، قتلِ عام اور اقتدار کی کشمکش سے گزرتی رہی ہے۔ شیخ مجیب الرحمن کے قتل سے لے کر فوجی آمریت اور پھر جمہوری ادوار تک، ملک کی سیاست ہمیشہ ہنگامہ خیز رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق 2026 کے انتخابات اس سوال کا جواب دیں گے کہ آیا بنگلہ دیش ایک مستحکم جمہوری راستے پر آگے بڑھتا ہے یا ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کا شکار ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ الیکشن نہ صرف نئی حکومت کا تعین کریں گے بلکہ یہ بھی طے کریں گے کہ بنگلہ دیش میں نوجوان نسل، جمہوریت اور ادارہ جاتی اصلاحات کس حد تک مستقبل کی سیاست پر اثر انداز ہو سکیں گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button