بنگلہ دیش میں 2024 کی عوامی تحریک کے بعد پہلے عام انتخابات، ووٹنگ کا آغاز

بنگلہ دیش میں 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد پہلی بار عام انتخابات کے لیے پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ ملک بھر میں کروڑوں ووٹر نئی حکومت کے انتخاب کے لیے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں، جبکہ اسی کے ساتھ آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 12 کروڑ 76 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز 300 نشستوں پر ارکانِ پارلیمنٹ کا انتخاب کریں گے۔ ووٹنگ کا عمل صبح ساڑھے سات بجے شروع ہوا اور شام ساڑھے چار بجے تک جاری رہے گا۔ ملک بھر میں تقریباً 42 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، اور نتائج رات گئے تک سامنے آنے کی توقع ہے۔
پارلیمنٹ کی کل نشستیں 350 ہیں، جن میں 300 نشستوں پر براہِ راست انتخاب ہوتا ہے جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ اس انتخاب میں 51 سیاسی جماعتیں اور 2,034 امیدوار حصہ لے رہے ہیں، جن میں 275 آزاد امیدوار بھی شامل ہیں۔
سخت سکیورٹی انتظامات
حکام کے مطابق ملک بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 9 لاکھ 58 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں ایک لاکھ کے قریب فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔ بیشتر حلقوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایک حلقے میں امیدوار کے انتقال کے باعث ووٹنگ معطل کر دی گئی ہے۔

سیاسی منظرنامہ
سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کو اس انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے، جس کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں اتحاد اور جماعتِ اسلامی کی قیادت میں اتحاد کو مرکزی حریف سمجھا جا رہا ہے۔
2024 کی تحریک، جسے “جولائی اپ رائزنگ” کہا گیا، میں نوجوانوں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان مظاہروں میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تحریک کے بعد شیخ حسینہ ملک چھوڑ کر بھارت منتقل ہو گئیں، جبکہ بعد ازاں انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی گئی۔

اگست 2024 سے نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت ملک کا نظم و نسق سنبھالے ہوئے ہے۔
آئینی ریفرنڈم
انتخابات کے ساتھ ہونے والے ریفرنڈم میں ایک غیر جانبدار نگران حکومت کی بحالی کی تجویز شامل ہے، جو آئندہ عام انتخابات کی نگرانی کرے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجویز سیاسی استحکام کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔
تقریباً 4 کروڑ 59 لاکھ نوجوان اور پہلی بار ووٹ دینے والے شہری اس انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں، جنہیں بنگلہ دیش کی سیاست میں فیصلہ کن قوت تصور کیا جا رہا ہے۔



