
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے، جس کے اثرات اب ایشیا کی بڑی معیشتوں تک پہنچ رہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق چین نے داخلی ایندھن کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے پٹرول اور ڈیزل کی برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق چینی حکومت نے ملک کی بڑی آئل ریفائنریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ نئے ایندھن کے برآمدی معاہدے نہ کریں اور پہلے سے طے شدہ بعض کارگو بھی منسوخ کرنے پر غور کریں۔ اس اقدام کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والی ممکنہ توانائی قلت سے نمٹنا بتایا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان جاری جنگ نے عالمی تیل کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے راستے میں رکاوٹوں کے باعث تیل کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد سمندری تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور بعض مواقع پر قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر چلی گئی ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور شپنگ صنعت کے لیے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق چین کا یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑی معیشتیں اب توانائی کے ممکنہ بحران کے خدشات کے پیش نظر اپنے ذخائر کو محفوظ بنانے کی حکمت عملی اختیار کر رہی ہیں۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ طویل ہوگئی تو نہ صرف تیل کی عالمی سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی مہنگائی، صنعتی پیداوار اور اقتصادی ترقی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔



