
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دفاعی ماہرین ایران کے جغرافیے اور اس کی عسکری حکمت عملی کو ایک اہم عنصر قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں پہاڑی سلسلے اور بلند سطح مرتفع بڑی تعداد میں موجود ہیں، جو کسی بھی بیرونی فوجی کارروائی کے لیے قدرتی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
جغرافیائی اعداد و شمار کے مطابق ایران میں تقریباً 41 ہزار پہاڑ اور سطح مرتفع موجود ہیں جو بنیادی طور پر البرز (Alborz) اور زاگرس (Zagros) کے پہاڑی سلسلوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اندازوں کے مطابق ملک کا بڑا حصہ سطح سمندر سے 900 میٹر یا اس سے زیادہ بلندی پر واقع ہے۔ یہی جغرافیہ ایران کو دفاعی حکمت عملی کے لیے موزوں بناتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے گزشتہ دہائیوں میں اپنی بہت سی اہم عسکری تنصیبات اور ہتھیاروں کے ذخائر پہاڑوں کے اندر یا زیرِ زمین سرنگوں میں منتقل کیے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ہتھیاروں کے ڈپو اور میزائل مراکز 80 سے 100 میٹر یا اس سے زیادہ گہرائی میں قائم کیے گئے ہیں، جنہیں عام فضائی حملوں سے نشانہ بنانا انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح ایران کے بعض حساس جوہری مراکز بھی سخت چٹانی تہوں کے نیچے تعمیر کیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی تعمیرات کا مقصد ممکنہ فضائی حملوں یا بنکر شکن بموں کے اثرات کو کم کرنا ہے۔

ایران۔عراق جنگ کا تجربہ
دفاعی ماہرین اس حوالے سے 1980 کی دہائی کی ایران۔عراق جنگ کی مثال بھی دیتے ہیں۔ اس جنگ میں عراق کو خطے کے کئی ممالک کی حمایت حاصل تھی، تاہم طویل جنگ کے باوجود عراقی افواج ایران کے اندرونی علاقوں میں فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔ اس کی ایک وجہ ایران کا پیچیدہ جغرافیہ اور دفاعی حکمت عملی بھی قرار دی جاتی ہے۔
ممکنہ عالمی اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے خلاف کسی بڑے پیمانے کی جنگ شروع ہوتی ہے تو یہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں رہے گا بلکہ اس کے عالمی سیاسی اور عسکری اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایسی صورت میں بڑی طاقتیں، خصوصاً روس اور چین، خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھیں گی اور اپنے مفادات کے مطابق سفارتی یا عسکری فیصلے کر سکتی ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کا جغرافیہ، اس کی زیرِ زمین عسکری تنصیبات اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی موجودگی کسی بھی ممکنہ جنگ کو پیچیدہ اور طویل بنا سکتی ہے، جس کے اثرات پورے خطے اور عالمی سیاست پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔



