
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے دارالحکومت تہران میں تیل کے بڑے ذخائر پر فضائی حملوں کے بعد ایک غیر معمولی ماحولیاتی صورتحال سامنے آئی ہے جسے ماہرین نے “سیاہ بارش” (Black Rain) قرار دیا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق تیل کے ڈپو اور ریفائنریوں میں لگنے والی شدید آگ کے باعث فضا میں زہریلے دھوئیں اور کیمیائی ذرات کی بڑی مقدار پھیل گئی جس کے نتیجے میں آلودہ اور سیاہ رنگ کی بارش ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں میں تہران کے قریب واقع شہران، کرج، اقدسیہ اور تہران ریفائنری سمیت چار بڑے تیل کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔ ان مقامات پر کئی دن تک آگ بھڑکتی رہی جس سے فضا میں دھوئیں اور زہریلے مرکبات کے بڑے بادل بن گئے۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق جب تیل، گیس یا کوئلہ جلتا ہے تو اس سے کاربن، نائٹروجن آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، بھاری دھاتیں اور باریک ذرات فضا میں پھیل جاتے ہیں۔ بعد ازاں بارش ہونے کی صورت میں یہی آلودگی پانی کے قطروں کے ساتھ زمین پر گرتی ہے جس سے سیاہ یا تیزابی بارش بنتی ہے۔

مقامی شہریوں نے بتایا کہ بارش کے بعد گاڑیوں اور عمارتوں کی چھتوں پر ایک تیل نما سیاہ تہہ جمع ہو گئی جبکہ فضا میں دھواں اور بدبو کئی دن تک برقرار رہی۔ بعض علاقوں میں لوگوں نے ماحول کو “قیامت جیسے منظر” سے تشبیہ دی۔
ایرانی حکام اور امدادی اداروں نے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی بارش جلد، آنکھوں اور سانس کی بیماریوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور دمہ کے مریضوں کے لیے خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فضا میں موجود زہریلے مرکبات نہ صرف فوری صحت کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں بلکہ طویل مدتی ماحولیاتی اثرات بھی چھوڑ سکتے ہیں۔ ان میں مٹی اور زیرِ زمین پانی کی آلودگی، عمارتوں کی تیز رفتار زنگ آلودگی اور زرعی زمینوں کو نقصان شامل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر آلودگی کی سطح زیادہ رہی تو یہ ذرات ہوا کے ذریعے دور دراز علاقوں تک بھی منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صورتحال کو خطے کے لیے ایک سنگین ماحولیاتی بحران قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تیل کے ذخائر پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کے فوجی ڈھانچے اور لاجسٹک نظام کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئیں۔ تاہم ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ان حملوں نے شہری آبادی اور ماحول کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔



