
(تازہ حالات رپورٹ )
واشنگٹن/خلیج عرب: سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز “ابراہام لنکن” اس وقت ایران کے ساحل سے تقریباً 700 کلومیٹر کے فاصلے پر تعینات ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں ایران کے قریب امریکی بحری موجودگی کی نمایاں ترین مثالوں میں سے ایک ہے، جس نے خطے میں ممکنہ کشیدگی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
بی بی سی کی تصدیقی ٹیم کی جانب سے تجزیہ کی گئی تصاویر کے مطابق بحری بیڑے میں ارلی برک کلاس کے تین گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی شامل ہیں، جبکہ F-35 اسٹیلتھ جنگی طیارے مسلسل مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بحیرہ عرب میں چوبیس گھنٹے جنگی مشقیں جاری ہیں جن میں ہنگامی حالات، بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے نمٹنے اور جہازوں کے دفاعی نظام کی تیاری جیسے عملی منظرنامے شامل ہیں۔
غیر معمولی سطح کی تیاری
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ امریکی تعیناتی معمول کی موجودگی سے کہیں زیادہ منظم اور فعال دکھائی دیتی ہے۔ اندازوں کے مطابق اس وقت خطے میں تقریباً 15 گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز موجود ہیں، جن کی مجموعی لانچ صلاحیت 600 سے زائد ٹام ہاک کروز میزائلوں تک پہنچ سکتی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پینٹاگون ممکنہ طور پر ہفتوں پر مشتمل آپریشنز کی تیاری کر چکا ہے، اگر صدر کی جانب سے کارروائی کا حکم دیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں ایک اور جدید طیارہ بردار بحری جہاز “جیرالڈ آر فورڈ” کو کیریبین سے مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
سفارتی پس منظر اور علاقائی ردعمل
یہ فوجی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی عسکری تیاری بیک وقت دباؤ اور بازدار قوت (deterrence) کا پیغام دیتی ہے، تاہم اس سے غلط فہمی یا غیر ارادی تصادم کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

ایرانی حکام اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ان کی سرزمین یا مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے میں موجود امریکی تنصیبات کے خلاف جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
صورتحال پر گہری نظر
اگرچہ کسی فوری حملے کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن خلیجی پانیوں میں امریکی بحری سرگرمیوں کا بڑھتا ہوا دائرہ کار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطہ ایک بار پھر غیر یقینی اور حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ عالمی منڈیوں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور بحری تجارت پر اس کے ممکنہ اثرات کو بھی قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔
سفارتی رابطوں اور عسکری تیاری کے اس متوازی عمل نے خطے کی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے، اور آئندہ چند دن اس تناؤ کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔



