ایرانتازہ ترین

ایرانی قیادت دباؤ کا شکار، فیصلہ سازی کا نظام متاثر ہونے لگا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی اخبار کی ایک تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران ایرانی قیادت کو لگنے والے شدید دھچکوں نے تہران کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو متاثر کر دیا ہے، جس کے باعث نہ صرف فوجی کارروائیوں بلکہ سفارتی سطح پر بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ تقریباً چار ہفتوں میں ایران کے درجنوں سینئر حکام اور ان کے قریبی ساتھی ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں قیادت کے درمیان رابطے کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ باقی رہ جانے والے عہدیدار بھی سیکیورٹی خدشات کے باعث ایک دوسرے سے کھل کر رابطہ کرنے یا ملاقات کرنے سے گریز کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کی گفتگو کو امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ابتدائی حملوں میں ایران کے سیکیورٹی، عسکری اور سویلین اداروں کے درمیان رابطے بھی متاثر ہوئے، جس سے پالیسی سازی اور مربوط ردعمل دینے کی صلاحیت کمزور پڑ گئی۔ اگرچہ ایرانی سیکیورٹی ادارے اور فوجی یونٹس اب بھی سرگرم ہیں، تاہم نئی حکمت عملی بنانے اور بڑے فیصلے کرنے کی رفتار سست ہو گئی ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا اثر میدان جنگ میں بھی نظر آ رہا ہے، جہاں ایران کے لیے بڑے اور مربوط حملوں کی منصوبہ بندی مشکل ہو گئی ہے۔ اسی وجہ سے حالیہ کارروائیاں نسبتاً محدود اور کم مؤثر سمجھی جا رہی ہیں، اگرچہ ایران اب بھی اہم نوعیت کے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اندرونی سطح پر طاقت کا توازن بدل رہا ہے، اور پاسدارانِ انقلاب کے سخت گیر عناصر کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے، جو بعض اوقات روایتی مذہبی قیادت سے بھی آگے نکلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس تبدیلی کو ایران کی داخلی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب نئی قیادت کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق سپریم لیڈر کے طور پر سامنے آنے والی شخصیت کے اختیارات اور کنٹرول کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں، اور یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ عوامی منظرنامے سے غائب ہیں، جس سے قیادت کے استحکام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

سفارتی محاذ پر بھی پیچیدگیاں بڑھ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے اندر یہ واضح نہیں کہ حتمی فیصلے کون کرے گا یا کن شرائط پر بات چیت کی جا سکتی ہے، جس سے مذاکراتی عمل سست روی کا شکار ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اب پہلے جیسے نہیں رہے اور "یہ ایک بالکل مختلف قیادت ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران بظاہر معاہدے کی طرف آنا چاہتا ہے، تاہم عوامی سطح پر مختلف موقف اختیار کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ایران کو فوجی اور انتظامی سطح پر نقصان پہنچا ہے، لیکن وہ ابھی خود کو مکمل طور پر کمزور نہیں سمجھتا۔ بعض سابق امریکی عہدیداروں کے مطابق ایران کسی بڑے معاہدے پر اسی وقت آمادہ ہوگا جب اسے مزید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں داخلی کمزوریوں، بیرونی دباؤ اور غیر یقینی قیادت نے اس کی مجموعی حکمت عملی کو متاثر کیا ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث آنے والے دنوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button