
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے کمانڈر نے "آپریشن ایپک فیوری” کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر شروع کی گئی، جس کا بنیادی مقصد امریکی مفادات، اتحادی ممالک اور اہم تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
کمانڈر کے مطابق، آپریشن کے دوران نہ صرف فضائی بلکہ بحری اور زمینی سطح پر بھی ہم آہنگی کے ساتھ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی افواج نے حساس مقامات پر نگرانی بڑھا دی ہے اور جدید ڈرونز، سیٹلائٹ سسٹمز اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ذریعے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حالیہ دنوں میں بعض خطرات اور ممکنہ حملوں کے خدشات کے باعث آپریشن کو وسعت دی گئی، تاہم اس کا مقصد کشیدگی میں اضافہ نہیں بلکہ استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ کمانڈر نے واضح کیا کہ امریکہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فوری جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر ترجیح تنازعات کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ "آپریشن ایپک فیوری” دراصل ایک وسیع اسٹریٹجک پیغام بھی ہے، جس کے ذریعے امریکہ اپنے اتحادیوں کو یقین دہانی کرا رہا ہے کہ وہ خطے میں سیکیورٹی کے لیے متحرک ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدام ممکنہ مخالف قوتوں کو بھی خبردار کرتا ہے کہ کسی بھی غیر متوقع کارروائی کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
سینٹکام کمانڈر نے مزید کہا کہ امریکی افواج مقامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، اور مشترکہ مشقوں و رابطوں کے ذریعے دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں امن، استحکام اور عالمی تجارتی راستوں کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق، موجودہ حالات میں ایسے آپریشنز نہ صرف فوری سیکیورٹی ضروریات کو پورا کرتے ہیں بلکہ طویل مدتی حکمت عملی کا بھی حصہ ہوتے ہیں، جن کے ذریعے طاقت کا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔



