
(تازہ حالات رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری اسٹریٹجک کشیدگی کے دوران ایک نئی رپورٹ نے علاقائی طاقت کے توازن سے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اسرائیلی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق چین نے ایک جدید نگرانی کرنے والا بحری جہاز خطے کے پانیوں میں تعینات کیا ہے، جسے غیر رسمی طور پر “ڈریگن آئی” کا نام دیا جا رہا ہے۔
عبرانی ویب سائٹ Netsiv کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین کا جدید سرویلنس جہاز Liaowang-1 مشرقِ وسطیٰ کے سمندری علاقوں میں موجود ہے۔ یہ جہاز مبینہ طور پر جدید ریڈار اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام سے لیس ہے، جو بیک وقت بڑی تعداد میں فضائی اہداف کی نگرانی کر سکتا ہے۔
اس جہاز کی اہمیت کیوں زیر بحث ہے؟
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بحری پلیٹ فارم مختلف فریکوئنسی پر کام کرنے والے ریڈار استعمال کرتا ہے، جن کے بارے میں دعویٰ ہے کہ وہ جدید اسٹیلتھ طیاروں جیسے F-35 Lightning II اور F-22 Raptor کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایسے نظام واقعی مؤثر ثابت ہوتے ہیں تو یہ خطے میں فضائی برتری کی حکمتِ عملی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادی جدید اسٹیلتھ طیاروں پر کافی انحصار کرتے ہیں۔
ایران کے لیے ممکنہ فائدہ؟
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین کے سیٹلائٹ اور بحری نگرانی کے نظام امریکی عسکری نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر انٹیلی جنس معلومات ایران کے دفاعی نظام تک پہنچائی جائیں تو اس سے تہران کی فضائی دفاعی صلاحیت مضبوط ہو سکتی ہے۔
چین کا تیار کردہ HQ-9 میزائل نظام، جس کے جدید ورژن خطے میں زیر بحث رہتے ہیں، ممکنہ طور پر ایسے ڈیٹا سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ تاہم ایران اور چین کی جانب سے اس نوعیت کے کسی براہِ راست تعاون کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

بدلتا ہوا علاقائی منظرنامہ
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان برسوں سے جاری خفیہ کشمکش میں ٹیکنالوجی کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔ ڈرون، میزائل دفاعی نظام اور الیکٹرانک وارفیئر اب کسی بھی ممکنہ تصادم کے مرکزی عناصر سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو بعض ماہرین خطے میں ایک نئے اسٹریٹجک عنصر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان دعوؤں کی مکمل تصدیق ضروری ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ عالمی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ کو اب بھی اپنی ٹیکنالوجیکل اور اسٹریٹجک مسابقت کا اہم میدان سمجھتی ہیں۔
فی الحال چین، ایران یا امریکہ کی جانب سے اس مخصوص رپورٹ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن اس پیش رفت نے خطے میں طاقت کے توازن سے متعلق بحث کو ضرور تیز کر دیا ہے۔



