امریکاتازہ ترین

مارکو روبیو کا یورپ سے اتحاد کا پیغام، مگر ہجرت پر سخت تنقید

(تازہ حالات رپورٹ )

جرمنی کے شہر میونخ میں جاری سالانہ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے یورپ اور امریکا کے درمیان اتحاد کو مضبوط رکھنے پر زور دیا، تاہم ہجرت اور بعض پالیسیوں پر یورپی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

روبیو نے کہا کہ امریکا اور یورپ “ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں” اور واشنگٹن ایک مضبوط یورپ کا خواہاں ہے۔ ان کے بقول امریکا عالمی سطح پر “تجدید اور بحالی” کے عمل کی قیادت کرنا چاہتا ہے اور ترجیح یہی ہے کہ یہ کام یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کیا جائے، اگرچہ ضرورت پڑنے پر امریکا تنہا بھی اقدام کر سکتا ہے۔

نسبتاً نرم مگر واضح مؤقف

مبصرین کے مطابق روبیو کا لہجہ گزشتہ سال کے مقابلے میں نسبتاً نرم تھا، جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسی فورم پر یورپی امیگریشن اور آزادی اظہار کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی تھی۔ تاہم اس بار بھی روبیو نے بڑے پیمانے پر ہجرت کو مغربی معاشروں کے لیے “عدم استحکام کا سبب” قرار دیا اور کہا کہ یہ تہذیبی شناخت کو متاثر کر سکتی ہے۔

یوکرین اور نیٹو پر بات چیت

کانفرنس میں یوکرین کی جنگ مرکزی موضوع رہی۔ فرانسیسی صدر Emmanuel Macron نے کہا کہ یورپ کو اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنی ہوگی اور روس کے خلاف طویل مدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے بھی زور دیا کہ “مضبوط یورپ، مضبوط نیٹو کی ضمانت ہے”، جبکہ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے امریکا اور یورپ کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو پُر کرنے کی اپیل کی۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے یورپ کو “سوتا ہوا دیو” قرار دیتے ہوئے دفاعی خود انحصاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دینے کا عندیہ دیا۔

امریکا–روس مذاکرات اور ٹرمپ کا مؤقف

امریکی حکام روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم پیش رفت محدود ہے۔ امریکی صدر Donald Trump نے حال ہی میں یوکرینی صدر Volodymyr Zelenskyy پر زور دیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے تیزی سے قدم بڑھائیں۔

روبیو نے میونخ میں کہا کہ یہ واضح نہیں کہ آیا روس سنجیدگی سے جنگ ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔

چین اور ایران پر مؤقف

وزیر خارجہ نے چین کے حوالے سے کہا کہ امریکا کو بیجنگ کے ساتھ تعلقات ذمہ داری سے سنبھالنے ہوں گے، چاہے دونوں طاقتوں کے مفادات ہر معاملے میں ہم آہنگ نہ ہوں۔ ایران کے بارے میں انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اسے حاصل کرنا “انتہائی مشکل” ہوگا۔

بدلتا عالمی منظرنامہ

میونخ کانفرنس میں اس بار روسی حکام مدعو نہیں تھے، تاہم چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کی شرکت متوقع تھی۔ ماہرین کے مطابق کانفرنس نے واضح کیا کہ ٹرانس اٹلانٹک اتحاد برقرار ہے، مگر اس کے اندر پالیسی اختلافات اور سیاسی دباؤ بھی موجود ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button