تازہ ترینمشرق وسطی

جنگ کے آغاز سے اب تک مشرقِ وسطیٰ میں 17 امریکی تنصیبات کو نقصان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے جوابی حملوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں کم از کم 17 امریکی تنصیبات اور فوجی مقامات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ انکشاف سیٹلائٹ تصاویر، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز اور امریکی و ایرانی حکام کے بیانات کے تجزیے کے بعد سامنے آیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کی متعدد لہریں شروع کیں۔ ان حملوں میں امریکی فوجی اڈوں، فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات اور سفارتی مراکز کو ہدف بنایا گیا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر میں کئی امریکی فوجی مقامات پر عمارتوں، مواصلاتی نظام اور دفاعی ڈھانچے کو واضح نقصان دیکھا جا سکتا ہے۔ امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے جوابی حملوں کی شدت اس سے کہیں زیادہ تھی جتنی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ابتدا میں توقع کی تھی۔

امریکی حکام کے مطابق اگرچہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بیشتر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم کچھ حملے کم از کم 11 امریکی فوجی اڈوں یا تنصیبات تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ تعداد خطے میں موجود امریکی فوجی مقامات کے تقریباً نصف کے برابر بتائی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کا نشانہ بننے والے مقامات میں دبئی، کویت سٹی اور ریاض میں امریکی سفارتی مشنز بھی شامل ہیں جبکہ بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے پر بھی میزائل حملہ کیا گیا۔

ایک امریکی کانگریسی عہدیدار کے مطابق نقصان کی مجموعی لاگت کا مکمل اندازہ لگانا ابھی ممکن نہیں، تاہم امریکی بحریہ کے ہیڈکوارٹر بحرین پر جنگ کے پہلے دن ہونے والے ایک حملے سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ تقریباً 200 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے CBS News نے رپورٹ کیا ہے کہ کویت میں امریکی فوجیوں پر ہونے والا ایرانی ڈرون حملہ ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ سنگین تھا۔ ذرائع کے مطابق اس حملے میں کئی امریکی فوجیوں کو دماغی چوٹیں، جلنے کے زخم اور دھماکے کے ٹکڑے لگنے کے باعث شدید زخمی ہوئے، جبکہ ایک فوجی کا عضو تک کاٹنا پڑا۔

رپورٹس کے مطابق 30 سے زائد زخمی امریکی فوجی اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں امریکہ، جرمنی اور دیگر مقامات کے فوجی اسپتال شامل ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک تقریباً 140 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر معمولی زخمی تھے اور ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں، تاہم چند فوجی شدید زخمی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 6 مارچ کو کویت میں ایک امریکی نیشنل گارڈ فوجی بھی ہلاک ہوا، جس کے بعد جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج بن چکی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے مزید اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button