
ریاض میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک دفاعی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
سعودی وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ ملاقات میں دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات اور دفاعی شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھنے پر متفق ہیں تاکہ دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، انسداد دہشت گردی تعاون، دفاعی تربیت، مشترکہ مشقوں اور عسکری ٹیکنالوجی کے تبادلے جیسے امور بھی زیرِ بحث آئے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹیجک دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد عسکری تعاون کے مختلف شعبوں میں پیش رفت دیکھی جا رہی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے اور جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک کا دفاعی تعاون نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ خطے میں استحکام کے لیے بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی تعلقات پہلے ہی مذہبی، معاشی اور دفاعی بنیادوں پر مضبوط رہے ہیں، تاہم حالیہ اعلیٰ سطحی روابط اس شراکت داری کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے۔ گزشتہ برس ستمبر میں دونوں ممالک نے ایک اہم “اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ” پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی گئی تھی۔
دونوں ممالک کے درمیان عسکری تربیت، انسداد دہشت گردی تعاون، مشترکہ مشقیں اور دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں روابط پہلے سے موجود ہیں۔ پاکستان ماضی میں سعودی افواج کی تربیت اور مشاورتی معاونت فراہم کرتا رہا ہے، جبکہ سعودی عرب نے بھی مختلف اوقات میں پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے مالی امداد اور مؤخر ادائیگی پر تیل کی سہولت فراہم کی ہے۔

حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی بات چیت جاری ہے، جسے ماہرین خطے میں ابھرتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یہ قریبی رابطے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نئی سمت دے سکتے ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی توازن پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔


