ایرانتازہ ترین

ایران جنگ میں امریکی دفاعی نظام دباؤ کا شکار، انٹرسیپٹر میزائلز کی کمی کا خدشہ

ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکا کے جدید میزائل دفاعی نظام کے ذخائر پر شدید دباؤ پڑنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انٹرسیپٹر میزائلز کی تیزی سے کھپت مستقبل میں ایک بڑا اسٹریٹیجک چیلنج بن سکتی ہے۔

ایک حالیہ تحقیقی جائزے کے مطابق امریکا کے THAAD (تھاڈ) میزائل سسٹم کے انٹرسیپٹرز کا ایک بڑا حصہ اس جنگ میں استعمال ہو چکا ہے۔ اندازوں کے مطابق اس نظام کے ذخیرے کا تقریباً ایک تہائی حصہ خرچ ہو چکا ہے، جبکہ ان میزائلز کی سالانہ پیداوار محدود ہے، جس کے باعث مکمل ذخیرہ بحال کرنے میں 3 سے 8 سال تک لگ سکتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ نظام ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں تقریباً 90 فیصد تک کامیاب رہا ہے، لیکن اس کی بڑی قیمت اور محدود دستیابی اسے ایک قیمتی مگر حساس اثاثہ بناتی ہے۔ ہر انٹرسیپٹر میزائل کی قیمت تقریباً 12.7 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی امریکا نے ہزاروں ہتھیار استعمال کیے، جس سے دفاعی وسائل پر غیر معمولی دباؤ پڑا۔ صرف چند دنوں میں استعمال ہونے والے میزائل اور دیگر ہتھیاروں کی مالیت اربوں ڈالر تک پہنچ گئی، جو اس تنازع کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج بموں یا حملہ آور ہتھیاروں کی کمی نہیں بلکہ دفاعی نظام کو برقرار رکھنے والے انٹرسیپٹرز، طویل فاصلے کے ہتھیار اور سینسر سسٹمز ہیں، جو جنگی توازن قائم رکھتے ہیں۔ اگر یہ وسائل کمزور پڑ جائیں تو دفاعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق خلیجی ممالک میں تعینات امریکی پیٹریاٹ سسٹمز نے بھی بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز فائر کیے، جو تقریباً ڈیڑھ سال کی پیداوار کے برابر ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ جنگ میں دفاعی وسائل کی کھپت غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔

دوسری جانب ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل موجود ہونے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنگ ابھی مکمل طور پر فیصلہ کن مرحلے میں نہیں پہنچی۔ ماہرین کے مطابق موجودہ رفتار سے یہ تنازع مزید کئی ہفتوں یا اس سے بھی زیادہ عرصہ جاری رہ سکتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کو کسی اور محاذ، جیسے ایشیا میں ممکنہ تنازع، کا سامنا کرنا پڑا تو موجودہ وسائل کی کمی اس کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس جنگ کو صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی اسٹریٹیجک توازن کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید جنگوں میں صرف حملہ آور طاقت ہی نہیں بلکہ دفاعی صلاحیت اور وسائل کی دستیابی بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے، اور ایران جنگ نے اس حقیقت کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button